خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 953
خطبات طاہر جلدم 953 خطبہ جمعہ ۶/ دسمبر ۱۹۸۵ء نمازوں کو سنوار کر اور سوز وگداز پیدا کر کے ادا کریں ( خطبه جمعه فرموده ۶ دسمبر ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: پچھلے چند خطبے اقامة الصلوة کی طرف توجہ دلانے کے لئے وقف کئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا سے جو اطلاعیں مل رہی ہیں ان خطبات کا بہت نیک اثر ظاہر ہوا ہے۔انتظامات کی طرف سے بھی یہی اطلاعیں ملی ہیں اور انفرادی طور پر بھی کہ بکثرت ایسے نوجوان جو نمازوں میں ست تھے خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے انہماک اور توجہ سے نماز ادا کرنے لگ گئے ہیں اور وہ جو نماز نہیں پڑھتے تھے وہ پڑھنے لگ گئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تربیت کا مسئلہ اتنا آسان نہیں جتنا بعض لوگ اسے سمجھ لیتے ہیں۔باوجود اس کے کہ بار بار کوشش کی جاتی ہے کوشش میں ذراسی بھی کمی واقع ہو جائے یا وہ محرکات پیچھے ہٹ جائیں جن کے نتیجہ میں ایک بات ظاہر ہوتی ہے تو انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ وہ نیکیوں سے بھی پیچھے ہٹنے لگتی ہے۔چنانچہ رمضان شریف عبادت کو جتنا بلند مقام عطا کر جاتا ہے اگر انسانی طبیعت میں اسے قائم رکھنے کا خاصہ ہوتا ، یہ طاقت ہوتی کہ اسے سمیٹ لے اور چمٹ کے بیٹھ جائے تو ناممکن تھا کہ رمضان شریف کے دوسرے یا تیسرے مہینے مسجدوں کا وہ حال ہو جاتا جو ہمیں نظر آتا ہے اور دل کو تکلیف دیتا ہے۔کہاں رمضان کی رونقیں اور کہاں رمضان کے بعد کی مسجد کی حالت حالانکہ جس خدا سے تعلق کے اظہار کے طور پر مومن مسجد میں جاتا ہے وہ خدا تو اسی طرح اس کا منتظر رہتا ہے اس میں تو کوئی زوال نہیں۔وہ خدا اسی طرح اس کی محبت کی طلب کرتا ہے جس طرح ایک محبوب اپنے پیارے