خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 939
خطبات طاہر جلدم 939 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء اندر مرکزی مفہوم بنیادی معنی ربط یعنی تعلق کے ہیں۔اب عام انسان وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا کہ اس مضمون کا نماز سے کوئی تعلق ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا عرفان ہے جو اس نقطہ کو پہنچ گیا ہے اور پھر اس کے بھی بڑے وسیع معانی آپ نے کھول دیئے ہیں ایک عظیم مضمون اس سے روشن کر دیا ہے۔فرمایا اصل رباط نماز کے ساتھ محبت ہے اور اس محبت کے نتیجہ میں نماز کی حفاظت ہے۔عشق کے نتیجہ میں یعنی ربط کے نتیجہ میں جو حفاظت ہوگی وہ حفاظت ہے جو حقیقی حفاظت ہے اور دوسری آیت جو میں نے پڑھ کر سنائی تھی حَافِظُوا يا يُحَافِظُونَ دونوں محاورے قرآن کریم میں ملتے ہیں ایک جگہ حکم ہے حفظوا (البقرہ: ۲۳۹) نماز کی حفاظت کرو۔دوسری جگہ فرمایا مومن بندے عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ المؤمنون : ۱۰) نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔تو وہاں جو حفاظت کا مضمون ہے اس کو بھی آنحضرت نے کھول دیا کہ وہ حفاظت ایسی نہیں جیسے چوکیدار کسی مکان کی حفاظت کرتا ہے۔بلکہ وہ حفاظت ہے جو تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور اس حفاظت کا جو مضمون بتایا ہے وہ سارا محبت اور پیار کا مضمون ہے۔وضو کرنا جبکہ تکلیف ہو۔وضو ایسی حالت میں کرنا جبکہ ابتلاء آجائے وضو کر نے سے۔کئی قسم کی مشکلات ہوں پھر اس وقت بھی سنوار کر وضو کرنا ، خوب اچھی طرح سجا بنا کے وضو کرنا۔پھر آنا جانا اس کثرت سے کہ قدموں کے نشان پڑ جائیں مسجدوں اور گھروں کے درمیان اور اس کے باوجود پھر اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنا کہ کب پھر خدا کی طرف سے آواز بلند ہو اور پھر میں مسجد چلا جاؤں۔یہ تو عاشقی کا مضمون ہے، محبت کا بھی جو اعلیٰ مقام ہوتا ہے جسے عشق میں دیوانگی کہا جاتا ہے یہ تو وہ مضمون بیان ہو رہا ہے اور آخر پر فرمایا رباط یہی ہے رباط یہی ہے۔اے سمجھنے والو مجھو کہ اصل حفاظت جس کی طرف قرآن کریم تمہیں بلا رہا ہے اپنی اقدار کی حفاظت ہے اور سب سے اعلیٰ قدر جو تمہیں عطا ہوئی ہے وہ نماز ہے۔اس کی حفاظت کرو لیکن عشق کے جذبے سے حفاظت کرو۔فرض سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون میں فرماتے ہیں۔وو وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ یعنی چھٹے درجہ کے مومن جو پانچویں درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو اپنی نمازوں پر آپ محافظ اور