خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 940 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 940

خطبات طاہر جلدم 940 خطبه جمعه ۲۹/ نومبر ۱۹۸۵ء نگہبان ہیں یعنی وہ کسی دوسرے کی تذکیر اور یاد دہانی کے محتاج نہیں رہے بلکہ کچھ ایسا تعلق ان کو خدا سے پیدا ہو گیا ہے اور خدا کی یاد کچھ اس قسم کی محبوب طبع اور مدار آرام اور مدار زندگی ان کے لئے ہوگئی ہے کہ وہ ہر وقت اس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں اور ہر دم ان کا یاد الہی میں گزرتا ہے اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی خدا کے ذکر سے الگ ہوں“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد نمبر ۳ سوره نحل تائیس صفحه ۳۷۰) حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے بعد حفاظت کا یہ مضمون حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔درمیان کی صدیوں پر نظر ڈال کر دیکھ لیں آپ کو يُحَافِظُونَ کی تفسیر میں عشق کا مضمون کہیں نظر نہیں آئے گا۔یا آقا کو اس بات کی سمجھ آئی یا اس غلام کو جو غلام کامل تھا اور جس کو خود حضرت محمد مصطفی علی اللہ سے ایک ہمیشہ کا ربط تھا۔ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام ( در مشین صفحه: ۱۶) میه اسی ربط کا تعلق تھا جس نے پہلے آقا کو خدا کے ساتھ ربط کے نتیجہ میں رباط کا مضمون سمجھایا اور یا پھر اس کامل غلام کو حضرت محمد مصطفی علیہ سے ربط کے نتیجہ میں رابطے اور حفاظت کا مضمون سکھایا جو اور کسی عالم کسی بڑے سے بڑے بزرگ اور متقی کو اس کے سوا سمجھ نہیں آسکا تھا۔یہ وہ خزانے ہیں جن کولٹانے کے لئے امام مہدی اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ان سے ہم اپنا تعلق کیسے توڑ دیں؟ جس طرح آپ کو دائم ایک حضرت محمد مصطفی علیے کے ساتھ ربط ہے اسی طرح ہم غلاموں کو بھی آپ کے ساتھ ایک ربط ہے۔جس تعلق کو کوئی دنیا کا انسان کاٹ نہیں سکتا کیونکہ اسی رابط کے نتیجہ میں ہم نے اللہ سے محبت اور پیار کے اعلیٰ مضامین سیکھے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں: غرض محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا نام نماز ہے وہ درحقیقت ان کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتے اور جس کی محافظت اور نگہبانی بعینہ اس مسافر کی طرح وہ کرتے رہتے ہیں جو ایک دشت بے آب و دانہ