خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 899
خطبات طاہر جلد ۴ 899 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کیلئے تقویٰ کے ساتھ قول سدید کا دامن پکڑیں (خطبه جمعه فرموده ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے قرآن کریم کی یہ آیات تلاوت کیں: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ، وَ مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) (الاحزاب: ۷۱-۷۲) اور پھر فرمایا: قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ جس طرح عبادت اور دعوت الی اللہ کا صبر کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اسی طرح اصلاح اعمال کا قول سدید کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔درحقیقت بہت سے انسانی خلق ہیں جو بعض خاص اوامر کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں اور ایک باقاعدہ نظم وضبط کے ساتھ انسانی فطرت کے اندر مختلف پہلوؤں میں اسی طرح ایک مربوط نظام نظر آتا ہے جس طرح ایک سائنسدان کو خدا تعالیٰ کی ظاہری کائنات میں ایک مربوط نظام نظر آتا ہے اور احکامات الہی کا بھی ان کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے جو اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہرے نظم وضبط کے ساتھ وہ تعلق قائم ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تمام الہی کتب میں سب سے زیادہ نظم اور ضبط