خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 900
خطبات طاہر جلد ۴ 900 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۸۵ء کے ساتھ اس تعلق کو قرآن کریم نے ظاہر فرمایا اور حیرت انگیز طریق پر ان مخفی اسرار کو روشن کیا جو پہلی قوموں کی نظر سے بھی اوجھل تھے اور پہلے مذاہب نے بھی ان کو اس طرح ابھار کر پیش نہیں کیا۔مثلاً یہی آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں قول سدید کا جس طرح اعمال صالحہ کے ساتھ تعلق جوڑا گیا ہے۔میری نظر میں کوئی اور ایسی الہی کتاب نہیں جس نے اس طرح قول سدید کو اعمال صالحہ کے ساتھ جوڑا ہو۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ قول سدید کا اعمال صالحہ کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہے کہ اس تعلق کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں معاشرہ میں بہت کثرت کے ساتھ برائیاں پھیل جاتی ہیں اور اس کا علم نہ ہونے کے نتیجہ میں علاج کی سمجھ نہیں آتی کہ علاج کیسے کیا جائے۔اس کا تعلق نصیحت کرنے والے سے بھی ہے اور اس سے بھی ہے جس کو نصیحت کی جاتی ہے۔سب سے پہلے تو نصیحت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے میں یہ سمجھاتا ہوں کہ جب تک آپ کی نصیحت میں قول سدید نہ آجائے اس وقت تک آپ کی نصیحت اعمال صالحہ کی ترغیب دینے میں ناکام رہے گی، اصلاح احوال میں ناکام رہے گی کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ تم اگر اعمال کی اصلاح چاہتے ہو تو پہلے صاف اور سیدھی بات کرنا تو سیکھو۔باتوں میں بیچ رکھتے ہو، بھی پائی جاتی ہے نیتیں کسی اور سمت میں رواں ہوتی ہیں ، بات کسی اور سمت میں چل رہی ہوتی ہے، مقصد کوئی اور بیان کیا جاتا ہے اور بات کسی اور ڈھب پر کی جاتی ہے۔بظاہر ملائمت بھی بات میں ملتی ہے ،ملمع کاری بھی ہوتی ہے، نیک نیتوں کا ادعا بھی ہوتا ہے لیکن اس کے اندر بعض دفعہ ایسی چھریاں پوشیدہ ہوتی ہیں جو کاٹتی ہیں اور نصیحت کرنے والے کو اور بھی زیادہ متنفر کر کے دور ہٹا دیتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ بالا رادہ ہو بلکہ بسا اوقات بغیر ارادے کے یہ کام ہوتا چلا جاتا ہے اور لوگ محسوس نہیں کرتے کہ کسی معاشرہ پر کیوں کوئی نصیحت اثر انداز نہیں ہوتی اور نیک لوگوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔بدوں میں تو اتنی کھل کر پائی جاتی ہے کہ اس کی کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کے کارکن چونکہ خدا کے فضل سے عمومی طور پر تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر قائم ہیں اس لئے میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ بھی اس کمزوری میں ملوث ہو جاتے ہیں اور ان کو علم نہیں ہوتا۔مجھے چونکہ دنیا کے کونے کونے سے جماعت کے کارکن اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور جو