خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 843
خطبات طاہر جلدم 843 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء حسین ہونا پڑے گا۔ان صفات سے مزین ہونا پڑے گا جو نہ صرف یہ کہ حسن کی جاذبیت رکھتی ہیں بلکہ حسن کی جاذبیت کو دیکھنے والی آنکھ پیدا کرسکتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے حسن میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حسن کا یہ کمال ہے کہ وہ اندھوں کو پہلے بینائی بخشتا ہے اور پھر اس بینائی کے سامنے اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔چنانچہ وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدى (الضحی :) میں ایک یہ بھی فلسفہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تجھے تو ہم نے بھٹکتا ہوا پایا تھا ہم نے تجھے ہدایت دی یعنی اپنی طرف آنے کے لئے ہم نے ہی سب کچھ تمہیں عطا کیا تھا۔آغاز میں جو طلب پیدا کی وہ بھی ہم نے پیدا کی ، دیکھنے کی توفیق بھی ہم نے بخشی۔پھر جلوہ بھی ہم نے دکھایا۔تو کلیہ ہدایت کے سارے مراحل کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر عائد ہوتی ہے۔اس لئے اہل سپین کے اندھوں کو اگر آپ نے جا کر اسلام کی طرف مائل کرنا ہے تو حسن بھی بخشا ہے اور حسن کی آنکھ بھی عطا کرنی ہے۔اس کے لئے آپ کو صفات باری تعالیٰ سے مزین ہونا چاہئے۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( تم السجدۃ: ۳۴) آپ حسین ہو جائیں گے، سب سے زیادہ حسین قول کہنے والے بنیں گے مگر اس وقت جبکہ اللہ کی طرف بلائیں اور اللہ کے رنگ اختیار کر کے اس کی طرف بلائیں۔عَمِلَ صَالِحًا کا یہی مطلب ہے کہ صرف اللہ کی طرف ہی نہ بلاؤ بلکہ اللہ کے رنگ اختیار کر کے پھر اللہ کی طرف ہی بلاؤ۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ انشاء اللہ تعالی اہل سپین کو اسلام کی طرف بلانے کے لئے یہ نیا لائحہ عمل بہت بہتر اور مفید ثابت ہوگا۔سپین میں اس دفعہ ایک اور نیا تجربہ ہوا جو بہت ہی دکھ والا بھی تھا لیکن اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے خاص دعاؤں کی بھی توفیق بخشی۔سفر کے دوران ایک ایسا خیال ہمارے ساتھی مکرم منصور احمد خاں صاحب کو آیا جس کا پہلے کم سے کم مجھے خیال نہیں آیا تھا۔وہ ہمارے وکیل التبشیر بھی ہیں اور سفر کے دوران پرائیویٹ سیکرٹری بھی وہی تھے اور میرے ڈرائیور بھی وہی تھے۔یہ تینوں کام خدا کے فضل سے انہوں نے بڑی ہمت سے کئے ہیں تو انہوں نے سفر کے دوران یہ بتایا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں اتنے مسلمان بستے رہے ہیں، آٹھ سو سال تک آبا د ر ہے ہیں ان کا مقبرہ کبھی نہیں دیکھا۔عمارتیں تو نظر آ رہی ہیں لیکن کہیں کسی مقبرے کا کوئی نشان نہیں ملتا۔اس وقت مجھے توجہ پیدا ہوئی اور میں نے کہا واقعہ جب پچھلی دفعہ بھی جب ہم یہاں آئے تھے اور اس سے پہلے بھی جب میں اکیلا پین