خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 844
خطبات طاہر جلدم 844 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء آیا تھا تو اس وقت بھی سارے سفر کے دوران کہیں بھی سپین میں مسلمانوں کا کوئی مقبرہ کہیں نظر نہیں آیا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے لئے ڈالا تھا کیونکہ دوسرے دن غرناطہ پہنچ کر جب ہم صبح کی سیر کے لئے نکلے تو تجویز یہ کیا گیا کہ اسی جگہ جہاں غرناطہ کا الحمراء پیلیس (Palace) ہے اس کے علاوہ بعض اور بھی ہیں وہ اس وقت چونکہ بند ہوگا۔اس لئے اس پہاڑی کی چوٹی وہاں سے سارے اندلس کا منظر دور دور تک نظر آتا ہے اور غرناطہ کے تو سارے پہلو ہر طرف سے بڑے صاف، واضح دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ اس پہاڑی کی چوٹی پر چلتے ہیں۔عموماً جتنے بھی مسافر ہیں یا زیارت کرنے والے ان کو الحمراء اتنے زور کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کہ اس سے آگے پہاڑی پر جانے کا کسی کو خیال ہی نہیں آتا۔بہر حال چونکہ سیر کی عادت تھی اس لئے اس تجویز کو میں نے بڑا پسند کیا اور ہم اس پہاڑی کی چوٹی پر جانے لگے تو تقریباً دو تہائی فاصلہ طے کرنے کے بعد اچانک میرے ساتھی ڈاکٹر منصور الہی صاحب نے بتایا کہ یہاں ایک قبرستان ہے اور یہ مسلمانوں کا ایک ہی قبرستان ہے جو آج تک باقی ہے۔چنانچہ میں نے دائیں طرف نظر ڈالی تو ابھی تک اس کے او پر قبرستان کے متعلق عبارت لکھی ہوئی تھی اوراندر جا کر ہم نے دیکھا تو اکثر قبریں بالکل گڑھے بن چکی تھیں جس طرح اندھی آنکھیں ہوتی ہیں ان میں آنکھ کا ڈھیلا نہ ہو۔اس قسم کی ان قبروں کی شکلیں تھیں اور وہ قبریں بڑی ہی دردناک حالت میں تھیں۔وہ بہت وسیع علاقہ ہے وہ پہاڑی کا ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جو تمام کی تمام کسی زمانے میں غرناطہ کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔وہاں کوئی کتبہ باقی نہیں ہے۔صرف پتھروں کے کچھ نشان اور کچھ قبروں کے گڑھے ہیں۔بعض جگہ لوگوں نے تھوڑی سی مٹی ڈال کر اس کو برابر کیا ہوا ہے ہیں اور چند قبریں ہیں جو تازہ ہیں مگر اکثر قبریں بڑی پرانی ہیں۔وہاں دعا کے وقت ایک خاص کیفیت دل میں پیدا ہوئی اور ذہن پرانی ماضی کی تاریخ میں چلا گیا۔نہیں کہ سکتا تھا میرے لئے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ ان میں سے اولین دور کے غازی کون سے ہیں اور آخری دور کے وہ بد قسمت کون ہیں جنہیں اپنے ہاتھوں سے سپین کو غیروں کے سپرد کرنا پڑا۔مگر یہ مجھے محسوس ہوا کہ اس مٹی میں دونوں خون ملے ہوئے ہیں۔ان غازیوں کا بھی خون