خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 842
خطبات طاہر جلدم 842 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء بے بصیرت لوگ ہیں جن کو روشنی کے ہوتے ہوئے بھی پوری طرح اندھیرا دکھائی دے رہا ہے۔یعنی خدا کا وجود جو ہر ذرہ سے ظاہر ہوتا ہے اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں بول رہا ہے نہ اس کی آواز کوان کے کان سن سکتے ہیں نہ اس نور کو وہ کسی پہلو سے بھی دیکھ سکتے ہیں، کلیۂ ایک خلا محسوس ہورہا ہے۔اور جس خدا پر وہ ایمان لا رہے ہیں وہ بھی ایک قدیم زمانہ کا خدا ہے جو ماضی میں سینکڑوں ہزاروں سال پیچھے رہ چکا ہے۔زندہ قدم بقدم ساتھ چلنے والا اور سہارا دینے والا ، آئندہ کی راہ دکھانے والا ، آئندہ کی امیدیں پیدا کرنے والا ایسا کوئی خدا ان کو معلوم نہیں۔اس لئے یہ ایک مرکزی حقیقت ہے جس پر زور دے کر ایسے ملکوں میں تبلیغ کامیاب ہو سکے گی اس لئے آئندہ اسی نہج پر کام ہونا چاہئے۔غرناطہ میمیں میں نے وہاں ایک مثال سنی جو بڑی دلچسپ ہے جو غرناطہ کے حسن کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔سپینش کہاوت ہے کہ غرناطہ کے اندھے یہ آواز دیتے ہیں کہ اے خاتون! کچھ راہ مولی مجھے خیرات دیتی جاؤ کیونکہ غرناطہ کے اندھے سے زیادہ دنیا میں اور کوئی محروم اور قابل رحم چیز نہیں ہے۔اتنا حسن اور آنکھیں حسن کو دیکھنے سے عاری رہیں ! چنانچہ وہ مثال مجھے یاد آئی اور میں نے سوچا کہ ایک غرناطہ نہیں اس وقت سارا ندلس سارا سپین اندھوں سے بھرا ہوا ہے۔خدا کے نور سے نا آشنا ہیں اصل حسن سے نا آشنا ہیں اور دیکھ نہیں سکتے۔ان کی نہایت ہی قابل رحم حالت ہے وہ جو ان کو اس حسن کی خیرات دینا چاہتے ہیں وہ خیرات لینے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔اسے لینے کے لئے ان کے ہاتھ آگے نہیں بڑھتے۔تب میری توجہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف منتقل ہوئی۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِه (بنی اسرائیل :۸۴) کس قدر حسرت کا مقام ہے کہ جب ہم نعمت دیتے ہیں انسان کو أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِ ہے وہ منہ موڑ لیتا ہے اور پہلوتہی کرتا ہے اور انکار کر دیتا ہے اس کو قبول کرنے سے۔اس وقت یورپ کے اندھے تو غرناطہ کے اندھے بنے ہوئے ہیں قابل رحم تو ہیں لیکن لینے کی کوئی طلب نہیں ہے۔واقفین عارضی کو وہ طلب بھی پیدا کرنی پڑے گی، ان کو یہ بینائی بھی دینی پڑے گی کہ تم محروم ہو اور ہم نہ صرف حسن لے کر آئے ہیں بلکہ تمہیں یہ بتانے بھی آئے ہیں کہ یہ حسن ہے اور تم اس سے محروم بیٹھے ہوئے ہو۔یہ دو کام ہیں آپ کا ایک کام نہیں رہا آپ نے یہ خیرات ان کی جھولی میں ڈالنی بھی ہے اور اس خیرات کے لئے طلب بھی پیدا کرنی ہے۔اس کے لئے آپ کو خود