خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 832
خطبات طاہر جلدم آہستہ آہستہ کیفیت بدل جائے گی۔832 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء امر واقعہ یہ ہے کہ فرانس کے ساتھ احمدیت کا جو پہلا رابطہ ہوا ہے وہ بھی کوئی ایسا خوشکن اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔یہ ۱۹۴۶ء کی بات ہے جب حضرت مصلح موعود نے یورپ میں جنگ کے بعد نئے مشن ہاؤسز نئی مساجد کی تعمیر کا پروگرام بنایا اور اسی سال سے نافذ العمل کرنا شروع کر دیا اس میں فرانس بھی تھا اور ۱۹۴۶ء میں اگر چہ کرایہ کا مکان تھا۔با قاعدہ کوئی عمارت تو خریدی نہیں جاسکی۔یا مسجد کے لئے زمین بھی نہیں لی گئی لیکن سپین کی طرح یہاں یہی مبلغ بھجوا دیئے گئے تھے جو تقریبا پانچ سال پیرس میں ٹھہرے ہیں اور ان کی رپورٹوں سے یہی تاثر لیا گیا حضرت مصلح موعود نے بعض دفعہ خطبوں میں بھی ذکر فرمایا کہ فرانس کی زمین سر دست اسلام کے لئے سنگلاخ معلوم ہوتی ہے اور اس قوم کے رویے میں تکبر پایا جاتا ہے اور پیرس خصوصیت کے ساتھ چونکہ ساری دنیا کی عیاشی کا مرکز ہے اس لئے وہاں مادہ پرستی اور دنیا سے محبت کا جو رنگ ہے وہ یورپ کے دوسرے شہروں میں نہیں ملتا۔تو پانچ سال کے تجربے کے بعد وہ مشن بند کر دیا گیا۔اس دفعہ بھی ہمارا تجربہ یہی رہا کہ فرانس میں خصوصیت کے ساتھ پیرس کیونکہ جب میں فرانس کہتا ہوں تو فرانس تو ایک وسیع ملک ہے اور اس کے مختلف خطوں کے لوگ مختلف مزاج رکھتے ہیں اس لئے میں سارے فرانس کے متعلق کوئی فتویٰ نہیں دینا چاہتا لیکن پیرس خصوصیت کے ساتھ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ابھی بھی وہی دنیا پرستی کا رنگ غیر معمولی طور پر غالب ہے اور اہل فرانس کے مزاج کو اگر پیرس کے پیمانے سے ماپا جائے تو آج بھی یہی فیصلہ ہوگا کہ نہایت متکبر ہیں اور دنیا پرست ہیں لیکن میرے نزدیک یہ پیمانہ درست نہیں۔نہ لندن سے انگریز کا مزاج پہچانا جاسکتا ہے نہ پیرس سے اہل فرانس کا مزاج پہچانا جاسکتا ہے۔South of France جہاں جہاں سے ہم گزرے ہیں وہاں بالکل اور قسم کے لوگ ہم نے دیکھے۔بڑے خلیق اور مہمان نواز اور ہنس مکھ۔باہر سے آنے والوں کا کھلے بازوؤں سے استقبال کرنے والے، ان کے رنگ بالکل مختلف تھے لیکن پیرس میں بالکل ایک اور رنگ نظر آیا۔بہر حال اس مشن کا افتتاح ہوا دعاؤں کے ساتھ اور پرسوز دعاؤں کے ساتھ اور جماعت فرانس کی ایک کافی تعداد خدا کے فضل سے وہاں موجود تھی۔جماعت فرانس کو ایک مرکز مل گیا ہے اور