خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 833
خطبات طاہر جلدم 833 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب وہاں احمدیت کا نور دن بدن زیادہ شان کے ساتھ ، زیادہ وسعت کے ساتھ اور جہاں تک دلوں کا تعلق ہے زیادہ گہرائی کے ساتھ ہر طرف منتشر ہونے لگے گا۔فرانس کا کچھ اتنا قصور بھی نہیں کیونکہ فرانس تعارف کے لحاظ سے ابھی بہت پیچھے ہے۔عجیب اتفاق ہوا ہے کہ فرانس اور فرانس کی جو Colonies تھیں ان سب جگہ میں احمدیت کا تعارف بہت دیر سے شروع ہوا ہے۔افریقہ میں بھی جہاں جہاں فرانس کی حکومت تھی ، فرانس کا رسوخ تھا وہاں جماعتی تعارف بہت لیٹ شروع ہوا ہے۔تو ان چیزوں کا بہت اثر پڑتا ہے۔ان کو پوری طرح علم نہیں کہ جماعت ہے کیا ؟ ان کو ہماری عالمی حیثیت کا ہی پتہ کچھ نہیں۔اس لئے وقت لگے گا لیکن بہر حال مجھے تو اس تجربے سے جو اہل فرانس کی آواز آئی ہے وہ یہ ہے کہ: بہرہ ہوں میں تو چاہئے دونا ہو التفات سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر (دیوان غالب صفحہ : 111) میں بہرا ہوں تو مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے ذرا اور اونچی آواز میں اور بار بار مجھے آواز پہنچاؤ۔چنانچہ میں نے وہاں افتتاح کے وقت اپنے اس رد عمل کا اظہار یوں کیا کہ جہاں تک جماعت احمدیہ کا رد عمل ہے وہ تو یہ ہے کہ اب ایک نہیں انشاء اللہ تعالیٰ فوری طور پر فرانس میں دو مرکز بنائیں گے اور یہ تو ایک مکان لیا گیا ہے بڑا اچھا اور وسیع مکان ہے۔بہت کشادہ کمرے ہیں اور کچھ عرصہ تک جماعت کی آئندہ ضروریات کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ بہت حد تک کفیل رہے گا لیکن اب خیال یہ ہے کہ یا پیرس کے گردو نواح میں یا جنوبی فرانس میں جہاں لوگوں کے اخلاق بہتر معلوم ہوئے ہیں وہاں ایک وسیع خطہ زمین لے کر وہاں نہایت خوبصورت اور عظیم الشان مسجد بنائی جائے اور مسجد کے ساتھ پھر مشن ہاؤس بھی قائم کیا جائے۔تو ہم تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ لوگ نہیں ہیں جن کے خمیر میں مایوسی پائی جاتی ہو یا شکست لکھی گئی ہو۔ہم تو انشاء اللہ تعالیٰ اہل فرانس کو بہر حال فتح کریں گے اور ان کے دل جیتیں گے۔کیونکہ فرانس کو ایک عالمی حیثیت حاصل ہے اس کے اثرات دنیا میں اور بھی بہت سے ملکوں اور قوموں پر پڑتے ہیں۔اگر فرانس میں احمدیت کا مشن مضبوط ہو جائے تو کثرت کے ساتھ دنیا میں فرانسیسی بولنے والے علاقے ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے نفوذ کی راہیں نکل آئیں گی اس