خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 827
خطبات طاہر جلدم 827 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۸۵ء مبلغ کام نہیں کرتا تھا، اس نے شروع کر دیا بلکہ احمدی جو وہاں آباد ہیں وہ کام نہیں کرتے تھے انہوں نے اب کام شروع کر دیا ہے۔اس لئے آپ سب جو یہاں بیٹھے میری آواز کو سن رہے ہیں آپ سب میرے مخاطب ہیں آپ اگر کام کریں گے تو تبلیغ کے نتائج ظاہر ہوں گے مقامی لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیں گے۔اگر آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ میر صاحب ( مکرم سید محمود احمد ناصر صاحب ) یا کرم الہی صاحب ظفر یا ستار صاحب ( مکرم عبد الستارخان صاحب) یہی لٹریچر شائع کریں گے اور تقسیم کر دیں اور یہ کافی ہے۔تو پھر یہ غلط نہی ہے آپ کی اس کو دل سے نکال دیں ورنہ اسی طرح بیٹھے رہ جائیں گے۔سپین کو اگر احمدی کرنا ہے تو ہر احمدی مرد، ہر احمدی عورت ، ہر احمدی بچے کو اپنے ماحول میں کام کرنا ہوگا اور اس کے علم کی کمی اس کی راہ میں حائل نہیں ہوگی کیونکہ اب کیسٹ کے، لٹریچر کے ایسے ذرائع پیدا ہو چکے ہیں کہ کم علم لوگ بھی جن کو زبان پر بھی عبور نہیں ہے وہ بھی اچھی تبلیغ کر لیتے ہیں۔میں نے بار ہا جرمنی کے احمدیوں کی مثالیں دی ہیں ان میں سے، اکثر آپ جانتے ہیں پاکستان میں جو نسبتا کم پڑھے ہوئے بچے تھے وہی باہر نکلے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو بمشکل ٹوٹی پھوٹی جرمن بولتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کو تبلیغ کے ذریعہ مخلص فدائی احمدی عطا کر دیئے ہیں اس لئے کہ ان کے دل میں محبت ہے، دعا گو ہیں اور جوش اور محبت کے ساتھ بات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔جو نہیں سمجھا سکتے اس کے لئے لٹریچر دے دیتے ہیں، کیسٹ مہیا کر دیتے ہیں۔تو ایسے ذرائع بن چکے ہیں کیسٹ ہیں وڈیو ہیں، لٹریچر ہے ہر قسم کا تو اس کے ذریعہ یہ آپ کی کمی پوری ہو سکتی ہے۔صرف دل میں ایک طلب ہونی چاہئے اور طلب کے ساتھ بے قراری چاہئے ، عام معمولی طلب نہیں پھر ایک دعا ہو بے قراری کی کہ اے خدا! ہمیں کوئی پھل دے ہم بے کار بیٹھے ہوئے ہیں جب تک تو ہمیں روحانی اولا د عطا نہیں فرماتا ہمیں چین نہیں آئے گا۔جب تک تبلیغ میں یہ رنگ نہیں آتا اس وقت تک تبلیغ کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے یہ رنگ پید کریں۔متعدد مرتبہ میں نے جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ تبلیغ کو روحانی اولاد کے رنگ میں دیکھیں اور اس کے لئے وہ رحجان پیدا کریں جو ایک ماں کو بچے کی خواہش کے لئے ہوتا ہے۔ایک طبعی بات ہے کہ ہر عورت کو بچے کی خواہش ہوتی ہے اور جس کو بچہ نہ ہو رہا ہو اس کی بے قراری بعض دفعہ دیکھی