خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 826 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 826

خطبات طاہر جلدم 826 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء لیں گے۔اگر وہ پسند آگئیں انشاء اللہ اگر وہ جگہیں اچھی ہو ئیں تو ان میں سے کوئی مناسب جگہ لے لی جائے گی۔لیکن جہاں تک کہ یہاں کی تبلیغ کا تعلق ہے ابھی تک مجھے تسلی نہیں ہے۔باوجو داس کے کہ تین مشنری یہاں موجود ہیں اور وہ وسیع پیمانے پر اپنی طاقت کے مطابق رابطہ رکھ رہے ہیں ، لٹریچر خود ہی شائع کرتے ہیں، اس کو تقسیم کراتے ہیں، تمام اخبارات سے، تمام بڑے بڑے لوگوں سے، یو نیورسٹیوں سے، دانشوروں سے، مقامی لوگوں سے، غیر ملکی مسافروں سے سب سے رابطہ ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ نتیجہ نہیں پیدا ہوا جس کی ہم توقع رکھتے ہیں اور شاذ کے طور پر سپینش چہرے نظر آتے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی ہیں جو یہاں سپین میں آباد ہو چکے ہیں۔اس وقت احمدیت کا وجود غیر ملکیوں سے بنا ہوا ہے نہ کہ مقامیوں سے ، یہ میں کہنا چاہتا ہوں۔یہ صورت حال فکر مند کرنے والی ہے اور یہاں کام کی جتنی بڑی ضرورت ہے اس کے لحاظ سے مایوسی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن میں آپ کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ ضرورت کے لحاظ ہم اس کا کروڑواں حصہ بھی نہیں کر سکے۔جس ملک میں ایک مشن قائم ہوئے تقریباً نصف صدی گزر چکی ہو اور آج بھی مقامی لوگوں کے گنتی کے نفوس ہوں ، یہ بات قابل فکر ہے۔ہزار عذر پیش کئے جائیں کہ آئے اور پھر دوسرے ملکوں میں چلے گئے ، مرکز نہ ہونے کی وجہ سے دوست آئے اور پھر رابطہ قائم نہیں رہ سکا اور بہت سی باتیں ہیں جو پیش کی جاسکتی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سب عذر ایک طرف ، یہ صورت حال اپنی جگہ پھر بھی تکلیف دہ رہے گی۔اسے ہم نے بدلنا ہے اور اسے ہم نہیں بدل سکتے جب تک مقامی جماعت میں سے ہر شخص خود مبلغ نہیں بنتا۔ایک مبلغ کا کام در اصل تبلیغ کو منظم کرنا ہے، لٹریچر پیدا کرنا ہے، تبلیغ کی تربیت دینا ہے اور وسیع پیمانے پر لوگوں سے رابطہ اور احمدیت کے نام کا تعارف کروانا اور اسلام کے نام کا عمومی تعارف کروانا ، یہ کام ہیں مبلغ کے اور انفرادی طور پر جتنا اس کو وقت ملے وہ پھر تبلیغ بھی کرے لیکن انقلابی تبلیغ جس سے ملکوں کے حالات بدلا کرتے ہیں وہ ہر فرد کا کام ہوا کرتا ہے وہی کرے تو تبلیغ ہوتی ہے ورنہ نہیں ہوتی۔میں اس سے پہلے بھی بار ہا مثالیں دے چکا ہوں۔انگلستان ہے، جرمنی ہے جب سے میں ان علاقوں میں آیا ہوں ان کی تبلیغ میں کئی گنا زیادہ تیزی آچکی ہے اس کی یہ وجہ نہیں کہ