خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 828
خطبات طاہر جلدم 828 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۸۵ء نہیں جاتی۔مجھے تو اس طرح پتہ ہے کہ مجھے خط آتے ہیں۔دعا کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں اولا دعطا بھی فرما دیتا ہے اور پھر ان کے جو خط ہیں وہ پڑھنے والے ہوتے ہیں کہ کس طرح وہ خدا کی حمد کے گیت گاتیں اور کس طرح شکر ادا کرتی ہیں۔یہ ہے وہ اصل تڑپ جو جب تک تبلیغ میں منتقل نہ ہو جائے اس وقت تک صحیح معنوں میں آپ کی دعاؤں میں جان نہیں پیدا ہوگی اس لئے یہ فیصلہ کریں دل میں کہ آپ نے روحانی طور پر صاحب اولاد ہونا ہے اور پھر اپنے دن گئیں کہ کتنے دن ضائع ہو گئے اور جو بقیہ وقت ہے اس کو میں کس طرح استعمال میں لاؤں کہ مجھے خدا تعالیٰ اپنی روحانی اولا دعطا کر دے پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کی تبلیغ کا رحجان ہی بالکل اور ہو جائے گا، آپ کی اندرونی طور پر ایک کا یا پلٹ جائے گی۔اس لئے تبلیغ کرنی ہے تو ہر احمدی کو کرنی پڑی گی۔اپنے ماحول میں کریں، اپنے دوستوں میں کریں، نئی دوستیاں اس خاطر بنائیں، تعلقات بنانے کے لئے بالکل مستعد اور تیار رہا کریں۔جہاں موقع ملے کسی سے بات کرنے کا بہانہ بنایا اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے اور پھر تبلیغ شروع کر دی۔یہ چیزیں ہر جگہ ہونی چاہئیں مگر سپین میں خصوصیت کے ساتھ اس لئے کہ یہاں ہزاروں لاکھوں گرجے ایسے ہیں جو پہلے مسجد میں ہوتی تھیں۔نظر پڑتی ہے تو بعض اوقات جی چاہتا ہے چیخیں ماری جائیں۔نا قابل بیان دکھ پہنچتا ہے بلا مبالغہ یہ کیفیت ہے کل مجھے میر صاحب بتارہے تھے تو اس وقت میری حالت نا قابل برداشت تھی جب میں یہ بات سن رہا تھا کہ ایک گاؤں میں گئے اور وہاں جا کر پوچھا کہ یہاں کوئی مسجد ہے تو انہوں نے کہا کہ دیکھو یہ سارے گرجے یہ سب مسجدیں ہیں یہ سمجھے کہ شاید مذاق کر رہے ہیں۔ہم نے کہا کہ ہم تو مسجد کا پوچھ رہے ہیں گرجوں کی کیا بات کر رہے ہو۔انہوں نے کہا دیکھو تو سہی جا کر۔ہم نے دیکھا تو ابھی تک عبارتیں لکھی ہوئی ہیں کہ فلاں بادشاہ اس مسجد میں آیا تھا، فلاں مسلمان بزرگ اس مسجد میں آیا تھا۔جس ملک کی یہ حالت ہو وہاں کی تو گلی گلی پکار رہی ہے آپ کو تبلیغ کے لئے ، اینٹ اینٹ دہائی دے رہی ہے کہ اے مسلمانو! اگر تم میں کوئی غیرت ہے اور کوئی محبت ہے محمد مصطفی ﷺ اور خدائے واحد و قہار کے ساتھ تو اٹھو اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو تم میں سے ہر ایک کو طارق بن جانا چاہئے۔تم میں سے ہر ایک کو خالد ہو جانا چاہئے۔تم میں سے ہر ایک میں وہ جذبہ جہاد پیدا ہونا چاہئے جو محد مصطفی ﷺ نے اپنے ساتھیوں