خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 755

خطبات طاہر جلدم 755 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء تھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار میں اسی طرح رنگین ہو جائیں بلکہ اس سے بڑھ کر رنگین ہونے کی کوشش کریں جس طرح چوہدری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے خاص رنگ عطا فرمائے تھے۔تو جماعت کے لئے تو ترقی کے کوئی رستے بند نہیں ہو سکتے کسی ایک وصال کے بعد کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اب آئندہ ایسا پیدا نہیں ہوگا۔وہ ایک ہی تھا جس جیسا پیدا نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے نہ ہوگا اور وہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں لیکن ایک ہونے کے باوجود لا متناہی کلمات پیدا کرنے کی صفات آپ کو بخشی گئی ہیں۔پس ان کلمات میں سے آپ بھی تو بننے کی کوشش کریں۔چوہدری صاحب کی ذات کے جو مختلف پہلو میں بیان کرنے چاہتا تھا وہ اتنے زیادہ وسیع نکلے کہ پھر مجھے ان میں سے بھی چند کا انتخاب کرنا پڑا اور جو چند کا انتخاب کیا ہے وہ بھی پوری طرح غالبا اس چھوٹی سی مجلس میں بیان ہو نہیں سکتے۔آپ کو ایسی خدا تعالیٰ نے عظمت عطا فرمائی تھی کہ جتنے بھی منصب آپ کو ملتے تھے وہ منصب ہمیشہ آپ سے چھوٹے نظر آتے تھے اور وہ منصب کبھی آپ کو چھوٹا نہیں دکھا سکے۔آپ کی ذات میں حوصلہ تھا ، وسعت تھی اور کسی منصب پر بیٹھ کے یہ نہیں لگتا تھا کہ اس منصب نے آپ کو اونچا کر دیا ہے بلکہ حقیقت میں آپ ہمیشہ ان مناصب کو اونچا کرتے رہے۔ان کے معیار کو بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ وہ منصب جب آپ نے چھوڑے تو پہلے سے زیادہ بلند مقام پر دکھائی دیا کرتے تھے اور یہ خصوصیت عجز کے نتیجہ میں انسان کو عطا ہوا کرتی ہے۔اگر گہری نظر سے آپ غور کریں تو بجز اور حوصلہ کی وسعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ایک جاہل اور کم فہم سرسری نگاہ رکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ سر اونچا کرنے کے نتیجہ میں بلندیاں بھی عطا ہوتی ہیں اور وسعتیں بھی عطا ہوتی ہیں لیکن فطرت انسانی سے واقفیت رکھنے والا جس نے قرآن کریم سے فطرت انسانی کے راز سیکھے ہوں وہ اس حقیقت کو خوب جانتا ہے کہ بجز ہی میں بلندی ہے اور بجز ہی میں وسعتیں ہیں اور یہ دونوں مضامین روزانہ پانچ وقت کی نماز کی ہر رکعت ہمیں بتاتی ہے۔پہلے عجز کا اظہار ہم رکوع کی صورت میں کرتے ہیں اور وہاں سبحان ربی العظیم پڑھتے ہیں یعنی وسعتوں کی طرف خدا تعالیٰ ہمارے ذہن کو منتقل فرما دیتا ہے کہ تم جھکے ہو تو تمہیں وسعتیں نصیب ہوں گی کیونکہ رب عظیم کے سامنے تم جھکے ہو اور دوسری حرکت جو ہم انکسار کی طرف کرتے ہیں جو ان حرکتوں کا وہ