خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 756
خطبات طاہر جلدم 756 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء منتہا ہے سجدے کی حرکت ہے۔اور وہاں خدا تعالیٰ ہمیں یہ سکھاتا ہے سبحان ربی الاعلیٰ۔سبحان ربی الاعلیٰ کہ تم جھکے ہو تو بلندیوں کی طرف جھکے ہو کیونکہ رب الاعلی کی طرف جھکے ہو۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب عملاً ان دونوں باتوں سے، ان دونوں رازوں سے خوب واقف تھے۔چنانچہ ان کی عظمتیں اور ان کی رفعتیں دونوں ان کو بجز کے نتیجے میں نصیب ہوئیں اور بے پناہ ان کے اندر خدمت دین کا جذبہ تھا اور کوئی دنیا کا منصب اس سے ان کو روک نہیں سکتا تھا۔اور دنیا کے منصب کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو کبھی ایسا بلند سمجھتے ہی نہیں تھے کیونکہ ہمیشہ منصب دنیاوی ان کو چھوٹا نظر آیا کرتا تھا کہ اس کے مقابل پر دین کی خدمت نسبتا ادنی نظر آئے۔یعنی وہ بجز جو عارف باللہ کا بجز ہوتا ہے، وہ بجز ہے جس کی بات میں کر رہا ہوں۔چنانچہ دین کی خدمت میں آپ اپنی بلندی دیکھتے تھے ، دین کی خدمت میں ہی آپ کی ساری عظمتیں تھیں۔چنانچہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک عجیب واقعہ ہے کہ ۱۹۴۱ء میں آپ کو جب فیڈرل کورٹ آف جسٹس انڈیا کا حج مقرر کیا گیا ہے تو اسی زمانے میں حضرت مصلح موعود نے تحریک کی تھی کہ مضافات قادیان ( ارد گرد جو دیہات ہیں) ان میں تبلیغ کے لئے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں تو فیڈرل کورٹ کا جسٹس ۴۱ ء اور ۴۲ء میں اردگرد دیہات میں تبلیغ کے لئے باقی سب مبلغین کے ساتھ مل کے جایا کرتا تھا اور ایک لحظہ کے لئے بھی اس کو خیال نہیں آیا کہ میری اتنی بڑی شان ہے ، میرا اتنا بڑا مقام ہے، کوئی دیکھے گا یا سنے گا تو کیا کہے گا یہ کیا کر رہا ہے۔یعنی چھوٹے چھوٹے گاؤں ڈپٹی اور بھینی اور اٹھوال اور بے شمار چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جن میں ایک عام خادم احمدیت کے طور پر شامل ہوا کرتے تھے اور فخر کے ساتھ ، اس احساس کے ساتھ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے سعادت نصیب ہو رہی ہے اور یہ تمنا محض ایسی خدمات کے لئے نہیں تھی جو عام حالات میں سہولت کے ساتھ ادا ہو سکتی ہے بلکہ نہایت خطرناک خدمات کے لئے بھی اسی قسم کی تمنا آپ کے دل میں تڑپا کرتی تھی۔جب کا بل میں ۱۹۲۴ء میں حضرت نعمت اللہ خان صاحب کو شہید کیا گیا تو حضرت مصلح موعود نے ان لوگوں کے نام طلب کئے جو تمام خطرات کو اچھی طرح بھانپتے ہوئے پھر وہ اس بات کا عہد