خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 754
خطبات طاہر جلدم 754 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء کہ اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت بھی تمہیں ان رستوں پر دوڑ کر جد و جہد سے روک نہیں رہی تو چھوٹے چھوٹے ، ادنی ، ادنی غلام اس کے ان کو تم کیسے آخری سمجھو گے، کیسے تم مایوس ہو جاؤ گے کہ یہ اتنی بلندیوں تک جا پہنچے ہیں کہ ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔فرمایا یہ کھلا ہوا رستہ ہے اور جہاں تک کلمات بننے کا تعلق ہے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند کلمات بنانے نہیں آئے تھے۔ایک یا دو یا تین یا چار یا دس عشرہ مبشرہ دے کر چلے جانے والے وجود نہیں تھے جو کلمات آپ کو عطا کرنے کی صلاحیت بخشی گئی ہے اگر تم اپنے حصہ کے حق ادا کرتے رہو تو یہ صلاحیت لا محدود ہے۔قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔کہ اے محمد ! یہ اعلان کر کہ میرے رب کے کلمات جو مجھے عطا کئے جارہے ہیں میرے رب کے کلمات اتنے وسیع ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی طاقتیں اتنی لامحدود ہیں ، یہاں کلمات کے معنی طاقتیں بھی بن جاتا ہے ، خدا کے پاس ایسے لامحدود خزانے ہیں کہ اگر تم لینے والے بنوتو وہ خزانے کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔گویا لا متناہی ترقیات کے رستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔تو میں اس لئے ذکر کر رہا ہوں کہ جہاں ایک طرف آپ کے دل میں دعا کی تحریک پیدا ہو وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی پر نظر کرتے ہوئے جو میں نے پڑھ کے سنائی ہے۔اور اس منبع فیض کی طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے جنہیں خدا تعالیٰ نے محمد کا نام آسمان سے عطا فرمایا تھا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس مبداء فیض کی طرف نگاہ کرتے ہوئے جسے قرآن کریم کہا جاتا ہے اور جس کے کلمات بھی نہ ختم ہونے والے ہیں آپ مایوسی کا کوئی خیال دل میں نہ آنے دیں۔یہ وہم دل سے نکال دیں کہ ایک ظفر اللہ خان ہمیں چھوڑ کر جا رہا ہے تو آئندہ کے لئے ظفر اللہ خان پیدا ہونے کے رستے بند ہو گئے ہیں۔بکثرت اور بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی عظیم الشان غلاموں کی خوشخبریاں دی گئی ہیں جو ہمیشہ آتے چلے جائیں گے اور ایک گزرے گا تو دوسرا اس کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھے گا۔آپ اپنی ہمتوں کو بلند کریں۔ان تقویٰ کی راہوں کو احتیار کریں جو حضرت چوہدری صاحب اختیار کرتے رہے، ان وفا کی خصلتوں سے مزین ہوں جن سے وہ خوب مزین تھے ، وہ صبر اور وہ ہمت پیدا کریں جو آپ کی ذات کے خاصہ