خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 750

خطبات طاہر جلدم 750 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء گردانا کرو نہ اپنے ساتھیوں اور احباب کے متعلق فتوے دیا کرو کہ وہ یقینا متقی ہیں اور حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم ان کا خیر کے ساتھ ذکر کیا کرو،حسن ظن کے ساتھ ذکر کیا کرو۔تو ان دونوں میں تضاد تو کوئی نہیں ہوسکتا۔کلام الہی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں کوئی تضاد نہیں۔مراد صرف یہ ہے کہ اپنے بھائیوں، اپنے بزرگوں، اپنے دوستوں کا حسن ظن کے ساتھ ذکر کرو، خیر کے ساتھ ذکر کرو۔ان معنوں میں کہ تم اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے ہو کہ ان کے بارے میں تمہارے اندازے سچ ہوں گے۔اور اگر وہ سچ نہ بھی ہوں تو ان کے لئے مجسم دعا بن جاؤ اور اس طرح ذکر کرو کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کی نظر پڑے اور تمہارے حسن ظن کو ان کی ذات میں سچا کر دکھائے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں یقین رکھتا ہوں تو ایک دعا کے رنگ میں کہتا ہوں، جہاں تک میرا علم ہے اس علم کے اظہار کے طور پر کہتا ہوں۔لیکن فتویٰ دینے کا نہ مجھے حق ہے نہ آپ کو حق ہے نہ آپ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ہیں نہ میں علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ہوں لیکن جہاں تک انسانی نظر کام کرتی ہے جہاں تک دور سے میں نے ان کی ذات کو دیکھا اور قریب سے ان کی ذات کو دیکھا، اس ذات کے متعلق علم حاصل کیا جو میری پیدائش سے پہلے بھی موجود تھی اور زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکی تھی اور اس ذات کے متعلق بھی غور کیا جس نے میری زندگی کا وہ حصہ پایا جو ہوش کا زمانہ کہلاتا ہے اور علمی لحاظ سے بھی آپ کا جائزہ لیا، آپ کی کتب کا مطالعہ بھی کیا، آپ کے متعلق لکھنے والوں کی تحریروں کا بھی جائزہ لیا، آپ کے متعلق خدا تعالیٰ کے بندوں کے تاثرات کو بھی سنا اور بعض دفعہ آپ کی ایسی خوبیوں میں جھانکنے کا بھی موقع ملا جو عموماً لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہتی ہیں ، خط و کتابت کا بھی موقع ملا اور ایسی حالت میں ان کو دیکھا جب کہ عموماً انسان نظروں سے تو شرماتا ہے لیکن خط لکھتے وقت اپنی اندرونی کیفیات کو خود ظاہر کر دیا کرتا ہے تو ان سب جائزوں کے بعد میں یہ یقین رکھتا ہوں اور میں اس یقین کو خدا کے حضور ایک عاجزانہ عرض کے طور پیش کرتا ہوں کہ وہ ہمارے اس یقین کو سچا کر دکھائے کہ یہ ہمارے بہت ہی پیارے وجود، بہت ہی بزرگ ساتھی جو چند دن ہوئے ہمیں حزیں بنا کے رخصت ہوئے ہیں، یہ اللہ کی نظر میں بھی متقی ٹھہریں خدا کی بھی محبت اور پیار کی نظر ان پر پڑ رہی ہو یہ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے ہوں۔