خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 751

خطبات طاہر جلدم 751 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء آپ بھی قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق اور ان تمام غلامانِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ کے جو اپنی اپنی جگہ یہ گواہی دیتے رہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقیناً کلمہ گر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نور پایا جو فیض آپ کو عطا ہوا وہ بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور برکت کے نتیجے میں ہوا اور آپ کو بھی اسی فیض سے سیراب ہو کر آگے جاری کرنے پر مامور فرمایا گیا اس لحاظ سے نیابت رسول میں آپ بھی کلمہ گر بنائے گئے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو جو فیوض عطا ہوئے ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے نشان جھلکتے ہیں اور اس بات کا سب سے بڑھ کر آپ کو احساس تھا اتنا شدید احساس تھا کہ وہ احساس ہر وقت ذہن پہ حاضر رہتا تھا۔میں نے مختلف حیثیتوں سے آپ کا جائزہ لے کر دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ عشق اس احسان کے احساس کے ساتھ کہ میری زندگی کی کایا پلٹ دی ہے ہر وقت آپ کے ذہن پر سوار رہتا تھا۔یہ انگلستان کی بات ہے کہ برمنگھم میں ایک دفعہ BBC1 کے نمائندے نے انٹرویو لیتے ہوئے اچانک آپ سے سوال کیا کہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ کیا ہے؟ بے تکلف سوچنے کے لئے ذرہ بھی تردد نہ کرتے ہوئے آپ نے فورا یہ جواب دیا کہ میری زندگی کا سب سے بڑا واقعہ وہ تھا جب میں اپنی والدہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ کے مبارک چہرہ پر نظر ڈالی اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھا دیا۔اس دن کے بعد پھر آپ نے وہ ہاتھ کبھی واپس نہیں لیا، مسلسل ہاتھ تھمائے رکھا ہے اور جو عظمتیں بھی آپ کو ملی ہیں اس وفا کے نتیجے میں ملی ہیں، اس استقلال کے نتیجے میں ملی ہیں، نیکی پر اس صبر اختیار کرنے کے نتیجے میں ملی ہیں۔تو دیا ہوا ہاتھ تھا پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ہمیشہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تابع فرمان کے طور پر زندہ رکھا۔ہر میدان میں، ہر علم کے میدان میں ، ہر جد و جہد کے میدان میں ، ہر اندرونی تجربے کے میدان میں آپ پر یہ احساس غالب رہا کہ میں نے ایک اللہ کے مامور کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے اور جہاں تک میرا بس ہے، جہاں تک میرے اندر خدا کی طرف سے توفیق عطا ہوتی ہے میں اس کے تقاضے پورا کرتا رہوں گا اور خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ نہایت ہی عمدگی کے ساتھ نہایت ہی اہلیت کے ساتھ ان تقاضوں کو پورا کیا اور آپ کے حق میں حضرت مسیح