خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 749
خطبات طاہر جلدم 749 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء جاؤ یعنی جس حد تک تمہارے لئے ممکن ہے اور پھر دیکھو کہ خدا کے کلمات لا متناہی ہیں اور یہ کلمات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتوں کی عطا کا سلسلہ ہے یہ بند نہ ہونے والا سلسلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اسی آیت کے ایک زندہ نشان کے طور پر پیش فرمایا اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوت قدسیہ نے اس زمانے میں بھی اثر دکھایا اور اس زمانے میں بھی آپ کی قوت نے ایک کلمہ گر پیدا کر دیا اور وہ سلسلہ جو بظاہر بند ہوتا دکھائی دے رہا تھا وہ خدا تعالیٰ نے پھر جاری فرما دیا پھر اس مقدس صحبت کے نتیجے میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے منعکس ہوئی پھر بہت سے کلمات پیدا ہونے شروع ہوئے عظیم الشان صحابہ ہیں جن میں سے ہر ایک کا وجود ایک کلمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر ایک کا وجود اپنے اندر اتنی گہرائی رکھتا ہے کہ عام انسانی نظر اس گہرائی کو پاسکے یا نہ پاسکے لیکن حقیقت میں ان کے باطن میں جو لازوال حسن اللہ تعالیٰ کی محبت کا جھلک رہا ہے وہ ایک نہ ختم ہونے والا سمندر ہے اور بسا اوقات یہ باتیں باطن ہی میں مخفی رہتی ہیں اور دنیا کی نظر میں سوائے اس کے کہ کوئی مجبوراً خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو اور مجبور ہو اظہار پر ورنہ اکثر ایسے لوگ خاموشی کے ساتھ آتے بھی ہیں اور گز ربھی جاتے ہیں اور انسانوں کی نگاہوں کا مرکز بھی نہیں بنتے اور یہ سلسلہ دیگر کلمات کے علاوہ اپنی ذات میں نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے۔مکرم و محترم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جن کا وصال یکم ستمبر کو ہوا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات میں سے ایک کلمہ تھے اور ایک عظیم الشان مقام خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تقویٰ کا نصیب ہوا۔جب میں یہ کہتا ہوں تو میں اس رنگ میں کہتا ہوں کہ گویا یہ میری دعا ہے اور جب خدا کے مومن بندوں کو اپنے فوت شدہ احباب اور بزرگوں کا ذکر خیر کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ بھی فتوے کے رنگ میں نہیں بلکہ دعا کے رنگ میں۔کیونکہ جہاں تک آخری فیصلے کا تعلق ہے نیکی اور تقویٰ کا فیصلہ کرنا صرف خدا کا کام ہے۔وہی عالم الغیب ہے، وہی عالم الشہادۃ ہے۔وہ فرماتا ہے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی (انجم: ۳۳) کہ تم نہ اپنے آپ کو متقی