خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد۴ 748 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء نشانات ہیں اور وسیع مضامین ہیں۔اگر مضامین کے اعتبار سے کھولا جائے تو لا متناہی کلمات ہو جاتے ہیں۔تو کلام الہی کے بعد انبیاء کی ذات بھی کلمات کہلاتی ہے اور صرف حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بلکہ ہر نبی ایک کلمہ تھا اور خدا کے تمام نیک بندے کلمات ہوتے ہیں۔چنانچہ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت میں جن مومنین کا ذکر ہے کہ ان کو جنات الفردوس عطا ہوں گی وہ ہمیشہ ہمیش ان میں رہیں گے نہ وہ کبھی ان سے تھکیں گے، نہ کبھی ان کو خدا کی طرف سے باہر نکالا جائے گا۔یہ وہی کلمات ہیں جن میں کچھ کلمات کی وضاحت اگلی آیات میں کی گئی ہے اور خوشخبری حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دی جارہی ہے کہ عیسائی تو ایک کلے کے اوپر فخر کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ منفرد تھا، ہم نے مسیح کو تو کلمہ کہا لیکن تجھے ہم کلمہ گر بنا رہے ہیں۔تجھ سے بے شمار کلمات وجود میں آئیں گے اور وہ سارے مومنین جن سے لا متناہی جنتوں کے وعدے کئے جار ہے ہیں ، نہ ختم ہونے والی جنتوں کے وعدے کئے جارہے ہیں، وہ سارے کلمات الہی ہوں گے جو تجھے نصیب ہوں گے۔پس یہ اعلان کہ میرے رب کے کلمات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اس کثرت سے اللہ تعالیٰ تجھے کلمات طیبات عطا فرمائے گا کہ ان کا پیدا ہونا بھی ختم نہیں ہوگا اور ان میں سے ہر وجود کے اندر معانی کے سمندر ہوں گے اور نیکیوں اور تقویٰ کے سمندر ہوں گے۔یہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت کے نتیجہ میں ان کو یہ نصیب ہونا تھا۔چنانچہ اس طرف توجہ مبذول فرمانے کی خاطر تیسری آیت میں یہ اعلان کر وایا گیا ہے کہ کلم گر تو میں ہوں تمہارے جیسا ہی بشر تھا، تمہاری ہی طرح کا ایک عام انسان تھا مگر جب مجھ سے تعلق جوڑا جائے۔جب تم میری پیروی کرو اور جیسے نیک اعمال میں نے کئے ہیں ویسے تم بھی کرنے لگو اور جیسا تو حید کو میں نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے اس طرح تم بھی توحید کے ساتھ چمٹ جاؤ تو پھر یہ وحی الہی کی نعمت جو کلمہ بناتی ہے وہ تمہیں بھی نصیب ہونی شروع ہو جائے گی اور میں اس نعمت کو محض اپنی ذات تک محدود کرنے کے لئے نہیں آیا۔میں تو اس نعمت کی طرف متوجہ کرنے کے لئے آیا ہوں تا کہ مجھے دیکھو اور تم میں شوق پیدا ہو اور تم میں محبت پیدا ہو، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق کی تمنا پیدا ہو اور اس کے نتیجے میں تم نیک اعمال کرو، میری پیروی کرو ، میری طرح موحد بن