خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 747
خطبات طاہر جلدم 747 خطبه جمعه ۶ ستمبر ۱۹۸۵ء بظاہر ان تینوں مضامین میں کوئی تعلق نظر نہیں آرہا لیکن ان تینوں میں سے جو مرکزی آیت ہے اس کے مضمون پر زیادہ گہری نظر ڈالی جائے تو پھر دائیں اور بائیں کی آیات کا مضمون خوب کھل کے سامنے آجاتا ہے۔قرآن کریم اللہ کے کلمات کا ذکر فرما رہا ہے کہ خدا کے کلمات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور اس سورۃ کا تعلق عیسائیت کے رد کے ساتھ ہے خصوصاً اس کی پہلی آیات اور اس کی آخری آیات عیسائیت سے ہی تعلق رکھتی ہیں اور عیسائیت کے رد کے مختلف پہلوان آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو قرآن کریم میں کلمہ کہا گیا گویا اس بات کی تصدیق کی گئی کہ وہ کلام تھا لیکن کلام کن معنوں میں تھا اس پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔عیسائی تو کلام ان معنوں میں لیتے ہیں کہ وہ ایک منفرد حیثیت تھی جو خدا کی خدائی میں شریک تھا اور وہی کلام تھا اس کے سوا کوئی کلام نہیں تھا۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ کہہ کر بات کو واضح فرما دیا کہ خدا کے بے شمار کلمات ہیں ان کلمات میں سے ایک کلمہ مسیح بھی تھا۔اور خدا کے کلمات نہ ختم ہونے والے ہیں اور مختلف رنگ میں کلمات کا اطلاق کر کے قرآن کریم نے بتایا کہ کلمہ کا مضمون بہت ہی وسیع مضمون ہے۔ہر کلام جو کسی نبی پر نازل ہوتا ہے وہ بھی کلمات پر مشتمل ہوتا ہے۔ہر وہ نیک شخصیت جو اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لیتی ہے اور ثبات قدم اختیار کرتی ہے اس کی شاخیں آسمان تک دراز ہوتی ہیں اور وہ خدا سے فیض پا کر نئے نئے روحانیت کے پھل خود بھی کھاتی ہے اور دنیا کو بھی دیتی ہے، اس کو بھی کلمہ فرمایا گیا۔تو سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کلمہ اگر اس کو انسانی معنوں میں لیا جائے تو وہ ایک ہے دو ہیں یا تین ہیں یا کس حد تک کلمات ہیں، پہلے تھے اور اب عطا ہونے بند ہو گئے ہیں یا آئندہ بھی جاری رہیں گے اور اسی طرح کلمہ ہر کلام الہی کے ہر جزو پر بھی صادق آتا ہے اور اس کے ہر معنی پر بھی لفظ کلمہ صادق آتا ہے۔لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لَّكَلِمَتِ رَبِّی میں خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم کا بھی ذکر ہے اور قرآن کریم کو تو ایک دوات نہ سہی دو یا تین دواتوں میں یا درجن سیاہی کی دواتوں میں لکھا جاسکتا ہے۔تو پھر یہ کہنا کہ کلام الہی کو اگر لکھنا شروع کرو تو سمندرخشک ہوجائیں اور پھر اور سمندر ہم لے کر آئیں اور وہ بھی خشک ہو جائیں اور کلام الہی ختم نہیں ہو گا۔کلمات البہی ختم نہیں ہوں گے۔اس کے کیا معنی ہیں؟ اس کے معنی یہی بنتے ہیں کہ ہر کلمہ کے اندر بے انتہا کلمات ہیں۔اللہ تعالیٰ کے