خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد۴ 736 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء لیتا ہے کہ ہم جو قربانی بھی خدا کی خاطر کرتے ہیں اُس کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی اجر پانے لگ جاتے ہیں۔پھر بھی اس کی قربانی کا مادہ بڑھتا ہے اور اللہ کے فضل کی تقدیر اس کے لئے اس کے علاوہ بھی جاری ہوتی ہے۔ان کے مسائل آسان ہو جاتے ہیں ان کی مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف انہیں ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جو عام حالات میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اور پھر کوئی جب غور کرتا ہے کہ یہ کیسے چیز ملی تو حیرت سے دیکھتا ہے کہ واقعہ سوائے اس کے کہ خدا کی تقدیر کام کر رہی ہو ہمیں یہانی نہیں چاہئے تھی۔چنانچہ مثلاً اسلام آباد جماعت احمدیہ انگلستان کے لئے ایک یوروپین مرکز کے طور پر لیا گیا میرے ساتھ اس سلسلہ میں کئی مہینے تک چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں اور آفتاب احمد صاحب اور ارشد باقی صاحب نے محنت کی جگہیں تلاش کیں، کئی جگہ دل بھی آجاتا رہا، کئی جگہ سودے بھی ہو گئے، لیکن عین آخری وقت میں آکر کوئی نہ کوئی وجہ ایسی ہو جاتی تھی کہ یا ہمارا دل اتر جاتا تھا یا جس سے خرید رہے تھے اس کا دل اتر جاتا تھا اور جگہ ہم یہی بیان کیا کرتے تھے کہ یہ جگہ چاہئے اس سے ملتی جلتی کوئی تھوڑی سی ملتی تھی مگر بالکل یہ جگہ نہیں مل سکتی تھی اور لوگ بتاتے تھے کہ یہ ایسی جگہ انگلستان میں پھر آپ کہتے ہیں لندن کے قریب سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور جب ہر طرف سے مایوسی ہوگئی تب یہ جگہ اچانک سامنے آئی تب اس کا اشتہار نکلا ، اس سے پہلے یہ مارکیٹ میں آئی نہیں تھی اور جب آئی اس وقت پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کیوں ہم سے یہ کھیلیں کھیل رہا تھا، امید میں دلاتا تھا واپس لے لیتا تھا، دل آتا تھا تو دل اتار دیتا تھا، کبھی ہمارا کبھی دوسرے فریق کا تو جب یہ جگہ سامنے آئی اس وقت دل نے گواہی دے دی کہ ہاں یہ ہماری ہے اور وہ فورا ہماری ہوگئی اور اس کے نتیجہ میں بہت سی برکتیں ملی ہیں اس جماعت کو نئی وسعتیں مل گئی ہیں، اتنا تیزی کے ساتھ اسلام آباد کے فوائد انگلستان کی جماعت محسوس کرنے لگی ہے کہ اب یوں لگتا ہے کہ اس کے بغیر ہم گزارہ کیسے کر رہے تھے۔چنانچہ اور باتوں کے علاوہ ابھی جب بچیوں کی تربیتی کلاس لگی ہے تو گیارہ سال سے لے کر پچیس سال کی بچیاں جن کی مائیں ہر وقت فکر مند رہتی تھیں کہ اسلامی معاشرہ کا ماحول ان کو نصیب نہیں ہے، کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ان کے اندر خوداعتمادی پیدا ہو، پتہ ہو کہ اسلام ان سے کیا تقاضے کرتا ہے، ان کی خاطر اسلام کیا کیا سہولتیں ان کو مہیا فرما تا ہے، اسلامی زندگی قید نہیں ہے بلکہ ایک نعمت ہے۔اس قسم کی باتیں جب تک ایک