خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 735
خطبات طاہر جلدم 735 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء ہو جاتا ہے۔نئی ہمتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں، قربانی کے لئے نئے جذبے ان کے دلوں میں بیدار ہوتے ہیں اور ایک واقعہ میرے علم میں نہیں آیا ساری دنیا کے احمدیوں میں کہ ان باتوں کو سن کر کوئی خوف سے پیچھے ہٹ گیا ہو یا غم سے ایسا مغلوب ہو گیا ہو کہ پہلی طاقتیں بھی اس کے ہاتھ سے جاتی رہیں۔ورنہ دنیا کے حالات میں تو غموں کے نتیجہ میں فالج بھی ہو جاتے ہیں، دنیا کے حالات میں تو غموں کے نتیجہ میں رہی سہی طاقتیں بھی انسان کی سلب ہو جایا کرتی ہیں اور اس کے برعکس جب میں خوشیوں کی باتیں بتاتا ہوں تو اس وقت بھی مجھے یقین ہوتا ہے کہ ایک بھی احمدی ایسا نہیں ہو گا ساری دنیا میں جو ان باتوں کو سن کر جھوٹے اطمینان میں داخل ہو جائے اس کو یہ غلط نہی پیدا ہو جائے کہ بس ہم نے سب کچھ پالیا، اب جد و جہد کی ضرورت نہیں ، اب ساری خدا کی طرف سے ہمیں طاقتیں مل گئی ہیں جو ہونا تھا وہ ہو چکا یا فخر کرنے لگ جائے یا تعلی میں مبتلا ہو جائے اور سمجھے کہ ہم یہ فضیلتیں رکھتے ہیں، یا غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ یہ میری ذاتی کمائی ہے، بلکہ جب خوشیوں کی خبریں بھی میں بتاتا ہوں تو جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے مجھے اس وقت یقین ہوتا ہے کہ خوشیاں اور فتوحات جماعت احمدیہ کے دل میں مزید بجز اور انکسار پیدا کرتی ہیں، پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ہر ایک ان میں سے جانتا ہے کہ یہ ہماری ذاتی خوبی کی بنا پر نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے اور اس کی رحمت ہے اس لئے ہمارے لئے تو ہر حال میں فتح مقدر ہوگئی ہے۔ہمارے خوف بھی نعمتیں بن کے آتے ہیں، ہماری امید میں بھی نعمتیں بن کے آتی ہیں، ہمارے غم بھی نعمتیں بن کے آتے ہیں اور ہماری خوشیاں بھی نعمتیں بن کے آتی ہیں۔یہ ہے ایمان کا نتیجہ اور ایمان کی تاثیر جس کو آج لکھوکھا احمدی ہر روز اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ پھر خدا کے وعدے ہیں یعنی یہ تو ایسی کیفیات ہیں جن میں سے ہم گزررہے ہیں ، واردات کے طور پر جو ہمارے دل کی، ہمارے دماغوں کی کیفیات ہیں۔لیکن ان باتوں سے قطع نظر ان سب کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اس کی نصرت کے، اس کی رحمتوں اور اس کی برکتوں کے اور ان کو بھی ہم آسمان سے نازل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ان دونوں کا آپس میں تعلق بھی بن جاتا ہے جب مومن کو غم ملتا ہے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی قربانی کا مادہ بڑھ جاتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ملتی ہے تو نیا حوصلہ آجاتا ہے اور یقین کر