خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 737
خطبات طاہر جلدم 737 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء غالب معاشرے کے اندر کوئی داخل ہو کر تجربے میں سے نہ گزرے یقین نہیں کر سکتا۔اب نظریاتی لحاظ سے لاکھ ان کو سمجھا دیں جب تک اسلامی معاشرہ کو کوئی چکھے نہ ، اس ماحول میں سے نہ گزرے اسے میسر ہی نہیں آسکتی یہ بات۔اب جب وہاں تربیتی کلاس ہوئی ہے بچیوں کی تو اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسے سارے فوائد ان کو میسر آگئے جولندن کی مسجد میں یا کسی اور جگہ میسر آ ہی نہیں سکتے تھے۔دن رات وہاں ٹھہر نا بہترین ہوٹل خدا نے بنے بنائے دے دیئے۔کھیلوں کے کھلے میدان، کسی پردے کی ضرورت نہیں ، وہاں دوڑتی پھرتی تھیں آزادی کے ساتھ۔ان کو تیرا کی بھی سکھائی گئی ، ان کو گھوڑ سواری بھی سکھائی گئی، ان کو تیراندازی بھی سکھائی گئی ، ان کو بندوق چلانا بھی سکھایا گیا ، ان کو سائیکلنگ بھی سکھائی گئی۔ہر قسم کی دلچسپیاں جو وہ پہلے دیکھا کرتی تھیں کہ غیر قومیں ان سے مزے لوٹ رہی ہیں اور ہمارے لئے گویا حرام ہیں ان کو بتایا گیا کہ کچھ بھی تمہارے لئے یہ حرام نہیں ہاں بعض شرائط ہیں تمہاری پاک دامنی کی حفاظت کی شرط کے ساتھ ہر چیز تمہارے لئے جائز ہے۔پھر ہر قسم کے علوم ان کو دیئے گئے گھر گرہستی کے طریق ان کو سمجھائے گئے۔کوئی پہلو ایسا نہیں رکھا جس سے ایک عورت کی شخصیت میں حسن پیدا ہوتا ہو اور وہ ان کو وہاں دینے کی نہ کوشش کی گئی ہو۔متوازن احمدی خاتون کی شخصیت جو ہماری مستقبل کے بچوں کی ذمہ دار ہے اس کی تعمیر کرنے میں اسلام آباد نے تین ہفتے میں ایک ایسا کردار ادا کیا ہے کہ آپ اس سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔چنانچہ باہر سے آئی ہوئی بچیاں صرف انگلستان سے نہیں ، یورپ سے، امریکہ سے، کینیڈا سے ان کی تو بالکل آنکھیں کھل گئیں۔میں نے بچیوں سے جب الگ الگ پوچھا تو بڑے دلچسپ جواب مجھے ملے ہیں۔ایک بچی نے کہا کہ مجھے تو اب معلوم ہوا ہے کہ میر او جود ہے کیا ؟ اپنی زندگی کا مقصد مجھےسمجھ آ گیا ہے۔ایک بچی نے بتایا کہ Now I know where I belong ماں باپ میرے احمدی تھے (والد تو ان کے سوئس ہیں جو عیسائیوں سے مسلمان ہوئے ) لیکن اس نے ایک فقرے میں بڑی گہری بات اور بڑے پیار کی بات کہہ دی کہ: For the first time, now I realised where I belong۔ماں باپ احمدی ہیں مگر اسی یوروپین ماحول میں پلی ہے، اچھا ماحول ہے لیکن ان تین ہفتوں نے اسے بتا دیا کہ تم کس جگہ سے تعلق رکھنے والی ہو ، کیا تمہارا مقام ہے اور جو پہلی ساری زندگی