خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 733

خطبات طاہر جلدم 733 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء سے پہلے نہیں آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بلکہ چھوٹے اور کمزور لوگوں میں سے جن کو وہ اپنی نظر میں ارذل سمجھا کرتے تھے اور ان کے اندر خدا تعالیٰ نے وہ کردار پیدا کر دیا ان کو غم بھی حو صلے عطا کرنے لگا، ان کی خوشیاں بھی ان کے دل بڑھانے لگیں ایک بالکل نئی قوم وجود میں آئی ہے۔آج جماعت احمد یہ جس دور میں سے گزر رہی ہے یہ وہی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اولین غلاموں کا دور ہے جو دہرایا جارہا ہے۔آخرین کا زمانہ آپ نے پایا ہے لیکن مومن اور کافر، ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کی صفات اسی طرح ہیں ، ان میں کوئی تبدیلی نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی بالکل اسی طرح ہے۔یہ وجہ کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب انسانی فطرت اسی طرح رہتی ہے، انسانی مزاج میں ایک خاص پختگی پیدا ہو چکی ہوتی ہے تو یہ کردار میں تبدیلی کیوں آتی ہے، کمزور لوگ اچانک کیوں عظیم کردار کا نمونہ دکھانے لگتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا ایمان اس کی وجہ ہے ایمان کے نتیجہ میں بزدلی یا خوف کا نشان باقی رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ ایمان باللہ کا مطلب یہ ہے اگر وہ ایمان حقیقی ہو کہ ایک مقتدر ہستی ہمارے پاس موجود ہے ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، وہ وعدے جھوٹے نہیں کرتی ، وہ اپنے پیار کا مظاہرہ کرنے والی ہستی ہے اور وہ ایسی ہستی نہیں جو اس دنیا میں ختم ہو جائے، اس دنیا کی بھی مالک ہے جس طرح اس دنیا میں Tariff کے قوانین ہوتے ہیں اور ایک ملک سے دولت دوسرے ملک میں منتقل نہیں ہوسکتی تو ایک خوف رہتا ہے کہ اس ملک میں انقلاب آجائے گا تو وہاں جا کر کیا کریں گے لیکن خدا تعالیٰ کی ہستی ایسی ہے اور ایمان مومن کو یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کا بھی وہ مالک ہے اُس دنیا کا بھی مالک ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تم کھوؤ اور اس سے دوبارہ نہ پاؤ۔موت بھی تمہیں کسی چیز سے محروم نہیں کر سکتی۔یہ ایمان ہے اور ایمان کی وسعتیں ہیں۔جتنی جتنی وسعتیں عطا ہوتی چلی جائیں اتنا ہی مومن کا کردار بدلتا رہتا ہے اور دوسرے یہ کہ مومن اپنی ذات پہ بھروسہ نہیں کرتا ایمان کے نتیجے میں اس کی توجہ دعا کی طرف مائل ہوتی ہے اور دعا ایک ایسی اکسیر ہے جو ہر بیماری کا علاج ہو جاتی ہے۔دعا کے نتیجہ میں اس کے خوف بھی دور ہو جاتے ہیں اور اس کی امیدیں اور خوشیوں میں بھی متانت آجاتی ہے۔اس کی خوشیاں اور اس کی امیدیں اس کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرتی ہیں۔بجائے چھٹینا کے، بجائے تنگ دلی یا کم حوصلگی کے ان خوشیوں کے نتیجے میں اسے سکینت ملتی ہے، نئے عزم عطا ہوتے ہیں ، نئی ہمتیں ملتی ہیں۔