خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 732
خطبات طاہر جلدم 732 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء جو خندق کھودی اور اسی خندق کے اندر رہنے والے دشمن موجود تھے، اسی طرح جو ہر وقت پیٹھ کی طرف سے چھرا گھونپنے کے لئے تیار کھڑے تھے، انتہائی کمزوری کی حالت تھی اتنی کمزوری کی حالت کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو لوگ جو کمزور تھے جو صحیح ایمان نہیں رکھتے تھے جو منافق تھے ان کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور فرماتا ہے ان کی آنکھیں اس طرح پھر رہی تھیں جس طرح موت کی غشی کے وقت آنکھیں پھر جاتی ہیں اور اس کے مقابل پر مومنوں کا یہ حال تھا کہ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا ان کا ایمان بڑھ رہا تھا ، وہ کہتے تھے ہاں اسی قسم کے ہمیں وعدے دیئے گئے تھے، اسی وقت کا ہم انتظار کر رہے تھے تو جس خدا نے یہ وعدے پورے کر دیئے وہ دوسرے وعدے بھی پورے فرمائے گا۔اور دوسری طرف سارے عرب قبائل میں سے چیدہ قبائل میں سے بڑے بڑے چوٹی کے جوان اور بڑے بہادر لوگ جو مدینے کو گھیرے ہوئے تھے۔ایک معمولی سے واقعہ سے ان کے اس طرح پاؤں اکھڑے ہیں اور اس افراتفری سے وہ اس جگہ سے بھاگے ہیں کہ روایات میں آتا ہے کہ بعض جنگجو جو اپنے اونٹوں کے گھٹے کھولنا بھول گئے اور سوار ہو کر ان کو بھگانے کے لئے اتنا ما را کہ ادھ موا کر دیا لیکن وہ اونٹ بھاگ ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے گھٹنے بندھے ہوئے تھے اور بعض سواریوں کو باندھا ہوا تھا ان کو بھگایا جب وہ نہیں بھا گئیں تو ان کو خود اپنے ہاتھ سے غصہ میں آکر مار دیا۔ہر طرف بھگدڑ ہر طرف افرا تفری مچ گئی تھی۔آنا فانا ایک بہت ہی عظیم الشان لشکر جو دس ہزار سے زائد کی تعداد میں تھا وہ آدھی رات کے وقت بھا گنا شروع ہوا ہے اور صبح کی سفیدی سے پہلے پہلے اس کا کوئی نام و نشان سوائے ان کھنڈرات کے جو ایسے لشکر پیچھے چھوڑ جایا کرتے ہیں باقی نہیں بچا تھا اور بڑے بہادر لوگ تھے کوئی نہیں کہ سکتا کہ عربوں میں بہادری نہیں تھی۔ایسے ایسے شاندار قصیدے انہوں نے اپنے جنگی کردار کے متعلق لکھے ہیں کہ فخر کے ساتھ انہیں خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا سنہری حروف میں لکھا گیا تھا لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر بیان فرمائی ہے وہ اٹل تھی، اس نے بہر حال پورا ہونا تھا۔اس لئے دنیا وی جتنے بھی طبعی محرکات ہیں وہ نا کام ہو گئے ، قومی محرکات سارے نا کام ہو گئے اور کفر اور ایمان میں جب تو میں بٹی ہیں تو کفر کے مقدر میں بزدلی ، بھا گنا مایوس ہونا اور رغم سے کلیہ مغلوب ہو جانا یہی لکھا گیا اور انہی لوگوں میں سے تھے وہ جوایمان لائے تھے اور ان میں سے کمزور حصہ تھے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے تاریخ بھی اس کی گواہ ہے کہ ان بڑے لوگوں میں