خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 734

خطبات طاہر جلدم 734 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء چنانچہ قرآن کریم نے خود اس راز کو بیان فرمایا کہ اصل وجہ مومن کے کردار کی عظمت کی یہ ہے کہ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجده : ۱۷) کہ وہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں يَدْعُونَ رَبَّهُمْ ہر وقت خدا کو بلاتے رہتے ہیں۔خَوْفًا وَطَمَعًا خوف کی حالت ہو تب بھی وہ خدا کو بلاتے ہیں، طمع کی حالت ہو تب بھی خدا کو بلاتے ہیں اور ایمان کے نتیجے میں جس ہستی کی عظمتوں کو وہ پہچان جاتے ہیں اس سے ہر ضرورت کی چیز وہ مانگنے لگتے ہیں۔خوف ہو تو وہ تعلق جوڑتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ ان کے خوف دور کرنے کے لئے ان کی طرف آرہا ہے بلکہ بسا اوقات یوں نظر آتا ہے کہ جیسے دیکھ رہے ہوں اس کو اپنی طرف آتے ہوئے اور جب خوشیاں عطا کرتا ہے نعمتیں عطا کرتا ہے، امیدیں بندھتی ہیں تو پھر بھی وہ رب کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں پایا تو نے عطا کیا ہے اور تو ہی برکتیں عطا کرے گا تو یہ ہمیں راس آئے گاور نہ راس بھی نہیں آئے گا تو کامل بجز پیدا ہو جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ جب مکہ میں داخل ہورہے تھے تو یہی يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا کا نظارہ ہم نے دیکھا یعنی اس کے دوسرے پہلو کا کہ جس وقت خدا تعالیٰ نے آپ کو عظیم فتح کی امید دلائی بلکہ فتح آپ کے قدم چومنے لگی اس وقت بجائے فخر کے، بجائے تعلی کے آنحضرت علیہ اس حال میں مکہ میں داخل ہوئے کہ دعا سے روتے روتے آپ کی ہچکی بندھ گئی تھی اور جھکتے جھکتے خدا کے حضور سر کجاوے سے جالگا تھاوہ جو اونٹ پر کاٹھی ڈالی جاتی ہے جو بھی اسکو کہتے ہیں اس اونٹ کی پیٹھ سے سر لگ گیا تھا انکساری اور خدا کے حضور جھکنے اور تضرع کے نتیجے میں۔کبھی دنیا میں کسی قوم نے کسی فاتح کو اس شان کے ساتھ کسی مفتوح شہر میں یا ملک میں داخل ہوتے نہیں دیکھا۔(السیرة النوبي لا بن ہشام جلد ۳ صفحه ۹ مطبوعہ بیروت) تو وہ لوگ جو ہر حالت میں اپنے رب کو بلاتے ہیں یہ اس رب کا ہی فیض ہے کہ انہیں یہ عظمت کردار عطا ہوتی ہے۔اسی لئے میں جماعت کو جب دکھوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں کس حالت میں جماعت گزررہی ہے تو ایک لمحہ کے لئے بھی مجھے خوف نہیں ہوتا کہ اس سے نعوذ بالله من ذالک جماعت میں مایوسی پیدا ہوگی اور نہ کبھی ہوئی ہے بلکہ جب میں تفصیل سے آگاہ کرتا ہوں جماعت کو کہ کن مصائب میں سے جماعت گزر رہی ہے، کیا کیا خطرات اس کو در پیش ہیں ، کیسے کیسے مظالم کا نشانہ بن رہی ہے، تو ہر دفعہ جماعت کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہو جاتا ہے، نیا حوصلہ پیدا