خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد۴ 731 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء ننگا ہو جاتا ہے خصوصاً خوف اور ہر اس کے وقت۔دوسری صورتوں میں بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب ان کو خدا تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرتا ہے منکرین کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے ، اس کی قدرتوں پر ایمان نہیں رکھتے وہ کیا ہو جاتے ہیں لَفَرِح فَخُورٌ ( عود (11) چھوٹی سی بات پر اچھل جاتے ہیں اور تعلی شروع کر دیتے ہیں اور فخر شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح دوسری بہت سی آیات میں خدا تعالیٰ نے کفار کے کردار کو بحیثیت کفار نمایاں طور پر الگ کر کے دکھایا ہے۔اور اس کے مقابل پر مومنوں کے کردار کو اس طرح واضح فرمایا کہ ہر غم ان کو نئے حو صلے عطا کر دیتا ہے، ہرا بتلا ان کو نئے عزم بخش جاتا ہے۔جب ان کے ایمان پر آزمائش ہوتی ہے فَزَادَهُمْ إِيمَانًا ( آل عمران :۱۷۴) وہ عجیب آزمائش ہے کہ بجائے ایمانوں کو کم کرنے کے ان کے ایمانوں کو بڑھا جاتی ہے اور جب وہ خوش ہوتے ہیں یا خدا تعالیٰ کی عنایات سے حصہ پاتے ہیں تو فخر اور تعلی کی بجائے اپنے رب کے حضور جھک جاتے ہیں اور ان میں عاجزی اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ عملی دنیا میں آنحضرت محمد مصطفی ﷺ کے دور میں دنیا نے اس کثرت سے ان دونوں امور کے مشاہدے کئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔بڑے بڑے طاقتور دشمن معمولی سے نقصان کے اوپر بھی دل چھوڑ جاتے رہے اور وہ لوگ بھی جن کے حوصلے عرب میں مشہور تھے۔جن کے شاعر اپنے ہم قبیلوں کی تعریف میں بڑے بڑے قصیدے لکھتے رہے کہ کوئی خوف ، کوئی مصیبت ، کوئی بلا ان کو مایوس نہیں کرتی وہ کسی وقت بھی کسی آزمائش میں پڑ کر بھاگنے کا نام نہیں جانتے اور واقعہ جہالت کے زمانہ میں ان کا یہی حال تھا لیکن قرآن کریم کا یہ فیصلہ بہر حال اٹل فیصلہ تھا اس نے لازماً پورا ہونا تھا۔چنانچہ بڑے بڑے بہادر ، ان کے بڑے بڑے عظیم قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ جب اسلام کے لشکروں کے مقابل پر آئے ہیں تو اپنی ظاہری عظمت کے باوجود، اپنی عددی برتری کے باوجود اپنی فنی صلاحیتیوں میں فوقیت رکھنے کے باوجود جب ذرا سا ان کو شکست کا احساس پیدا ہوا تو اس طرح میدان چھوڑ کر بھاگے ہیں کہ گویا اُن کے پاؤں ہی نہیں تھے کبھی۔نہایت ہی ذلیل بزدل قوموں کی طرح انہوں نے نمونے دکھائے ہیں۔جنگ احزاب سے زیادہ اور کیا مثال آپ کو مل سکتی ہے کہ چند معمولی تعداد میں آنحضرت ﷺ کے غلام گھرے ہوئے اور حالت یہ تھی کہ اگر وہ خندق نہ کھودتے تو بظاہر دنیاوی پیمانوں کے لحاظ سے کسی قسم کے ان کے بچنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔مجبوری کی انتہا تھی