خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 730
خطبات طاہر جلد۴ 730 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء کر دیتے ہیں ایسے لوگ اکثر دنیا میں الا ماشاء اللہ جس میدان میں قدم رکھتے ہیں ناکام رہتے ہیں۔اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہیں جن کو خوف و ہراس اور خوشی اور امید میں بالکل مختلف قسم کے پھل عطا کرتے ہیں۔خوف کے نتیجہ میں ان کی مخفی طاقتیں جاگ اُٹھتی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی عطاء کردہ عظمتیں جو ان کے سینوں میں خوابیدہ تھیں انہیں ہوش آ جاتی ہے، ان کو اپنی حیثیت کا پتہ چلتا ہے، ان کے اندر ولولہ پیدا ہوتا ہے، ان کے اندر جرات زور مارنے لگتی ہے اور وہ بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ ہر چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔خوشی ان کو تسکین تو بخشتی ہے لیکن پاگل نہیں کر دیتی ،میدان کونئی زندگی کا پیغام تو دیتی ہے لیکن عمل سے غافل نہیں کرتی ، دنیا کی مختلف قوموں میں بھی اس قسم کے مزاج پائے جاتے ہیں اور افراد میں بھی لیکن استثناء سب جگہ موجود ہیں۔قرآن کریم اس مضمون کو اس طرح دو حصوں میں تقسیم فرماتا ہے کہ کفار کی طرز عمل مومنوں کی طرز عمل سے بالکل الگ اور ممتاز کر کے دکھاتا ہے۔قرآن کریم کے نزدیک ایمان اور کفر بھی دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اُن میں بھی وجہ امتیاز تمہیں یہی دکھائی دے گی کہ کافر کے دل پر خوف و ہراس اور اثر کرتے ہیں اور مومن کے دل پر اور کافر کو خوشیاں اور پیغام دیتی ہیں اور مومن کو اور۔اور یہ ایک ایسا غالب رنگ ہے، یہ ایک ایسی غالب تقسیم ہے کہ کافر خواہ انفرادی طور پر جرات مند اور بڑے حوصلے کا بھی ہو خواہ قومی لحاظ سے انکار کرنے والوں کا قومی کردار اسی مضمون میں مختلف اثر دکھا رہا ہولیکن جب یہ لوگ یعنی الناس دو حصوں میں بٹتے ہیں کفر اور ایمان کے لحاظ سے ، کچھ انکار کرنے والے بن جاتے ہیں اور کچھ ایمان لانے والے تو قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ تقسیم ان کے اوپر اس طرح غالب آجاتی ہے کہ ہر انکار کرنے والے کا یہ کردار بن جاتا ہے اور ہر ایمان لانے والے کا وہ کردار بن جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ جو منکرین ہیں ان کا کردار ہے جب ان کے اوپر مذہبی طور پر کوئی ابتلاء آتا ہے یا کوئی مایوسی کا دور آتا ہے، کوئی خوف کا دور آتا ہے تو لَيَوسٌ كَفُورٌ (هود: ۱۰) وہ مایوس بھی ہو جاتے ہیں اور ناشکری کی باتیں بھی شروع کر دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ کیسا خدا ہے اس نے ہمیں چھوڑ دیا، یہ کیسا خدا ہے جس نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے ، یونہی فرضی باتیں ہیں یونہی قصے ہیں، گویا بنیادی طور پر عدم ایمان کے نتیجہ میں انکار پیدا ہوتا ہے اور انکار بعض حالتوں میں