خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد۴ 728 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء ساتھ دنیا کے ذکر کو نسبت ہی کوئی نہیں۔لیکن جب میں نے یہ سوچا تو ساتھ ہی میرا دل استغفار کی طرف مائل ہوا میں نے کہا میرا ذکر کیا اور سب احمدیوں کا ذکر کیا۔ساری دنیا کے انسانوں پر بھی اگر ان کا چرچا ہوتا اور ان کی زبانوں پر ان کا ذکر ہوتا تب بھی اس ذکر کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں جو قرآن کریم میں ان کا ذکر موجود ہے۔اللہ نے ذکر فرمایا ہے ان آیات میں جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنا ئیں اور اور بھی بہت سی آیات میں ان کا ذکر فرمایا ہے۔وہ تصویریں کھینچی ہیں جو ہو بہو آج پوری ہورہی ہیں۔وہ تصور نہیں رہے، وہ نظریات نہیں رہے، عمل کی دنیا میں ڈھلنے والی چلتی پھرنے والی جیتی جاگتی تصویر میں بن گئی ہیں ان کے متعلق وہ ذکر خداوندی جو قرآن کریم میں موجود ہے۔پس وہی ان کا ذکر ہے اصل اگر فخر ہے اور شان ہے تو اس بات میں ہے کہ اللہ نے ان کا ذکر فر مایا اور اس وقت ذکر فرمایا جب ان کے وجود کے کوئی آثار بھی ظاہر نہیں ہوئے تھے اور یہ وہ ذکر ہے جو لوح محفوظ پر نقش ہے۔کائنات کے وجود سے بھی پہلے یہ ذکر موجود تھا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اولین غلاموں کا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخرین غلاموں کا۔وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں، اب جب وہ دیکھیں گے اپنی قربانیوں کو مڑکر دیکھیں گے تو اہل انگلستان ہوں یا اہل پاکستان ہوں وہ اتنی حقیر نظر آئیں گی اس نعمت اور اس انعام کے مقابل پر کہ ان کے دل میں بجائے فخر کے خدا کے لئے مزید خشیت پیدا ہوگی، وہ خدا کے حضور مزید جھکیں گے۔استغفار کی طرف دل مائل ہوں گے۔ہم تو سمجھتے تھے ہم نے بڑے بڑے تیر مارے ہیں بڑی بڑی قربانیاں پیش کی ہیں اور ایسے کہ ہمارے نام روشن ہو گئے۔نام تو روشن ہوئے مگر تمہاری قربانیوں کو ان روشنائیوں سے کوئی نسبت نہیں حقیقت یہ ہے کہ محض اللہ کا فضل ہے اور اس کا احسان ہے کہ اس نے اس زمانے کے لئے ہمیں اس ذکر کے لئے چنا ہے جو خدا نے اپنے پیارے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا تھا اور ان کے غلاموں کا کیا تھا ان لوگوں میں ہمیں شامل کر دیا۔پس ایک ہی جذبہ ہے جو دل سے اٹھتا ہے کہ بخ بخ ابو هريره (سنن ترندی کتاب الزهد حدیث نمبر 2290)۔کیا شان ہے تیری ابوھریرہ کہ تو بھی آج اس شان کا مالک ہو گیا ہے۔اس نے تو کچھ اور کہا تھا میں یہ کہتا ہوں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادنی غلاموں میں تیرا شمار ہونے لگا ہے۔