خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 729
خطبات طاہر جلدم 729 خطبه جمعه ۳۰ / اگست ۱۹۸۵ء دنیا بھر میں جماعت کونئی وسعتیں عطا ہو رہی ہیں ( خطبه جمعه فرموده ۳۰ را گست ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: قُلْ يُعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابِ (الزمر :) پھر فرمایا: غم اور خوشی اور خوف اور امید یہ انسانی طبیعتوں پر مختلف رنگ میں اثر انداز ہوتے ہیں۔بعض انسانوں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں، ان کا ظرف کم ہوتا ہے، ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں، ان کو خوف و ہراس بالکل مایوس کر دیتے ہیں اور جو ان کی مخفی طاقتیں خدا تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہوئی ہیں وہ خوف و ہراس کے نتیجہ میں مختل ہو جاتی ہیں ، ایک جمود طاری ہو جاتا ہے اور جو رہی سہی طاقت عام حالات میں انسان مختلف رنگ میں استعمال کر سکتا ہے اس کی بھی ان کو استطاعت نہیں رہتی۔اسی طرح چھوٹے دل اور چھوٹے حو صلے کے لوگوں کو خوشی بھی پاگل کر دیتی ہے وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر چھلانگیں لگانے لگتے ہیں، اپنی طاقت سے بہت بڑھ کر اپنے متعلق گمان کرنے لگتے ہیں، جو کچھ ان کو ملنا ہے اس سے کئی گنا زیادہ امیدیں لگا بیٹھتے ہیں اور یہ کیفیات زندگی کے ہر شعبہ میں یکساں عمل کر رہی ہیں۔بعض اسی قسم کے تجارت کرنے والے ابھی تجارت کا منافع تو دور ،تجارت کے ابتدائی اقدام بھی ابھی نہیں کئے ہوتے تو بڑے بڑے منافعوں کی توقع رکھ کر اصل زر میں سے خرچ شروع