خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 727
خطبات طاہر جلدم 727 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء میں عزم شامل ہو جائے جب کمزوروں اور بے بسوں کی پیشانیوں میں ایمان جھلکنا شروع ہواور عظمت کر دار ظاہر ہونے لگ جائے تو پھر دیکھنے والی آنکھ ان کو ذلیل کے طور پر نہیں دیکھا کرتی ، ان کو غالب کے طور پر دیکھا کرتی ہے، رعب دار ہستیوں کے طور پر ان پر نظر ڈالتی ہے۔ان سے مرعوب ہوتی ہے اور ان کا خوف کھاتی ہے۔پس یہ راہ خدا میں چلنے والے یہ اثر پیدا کرتے ہوئے چل رہے تھے، اس شان کے ساتھ گلیوں میں روانہ تھے کہ ان کے قد بھی دو دوفٹ بلند نظر آرہے تھے اور ان کا رعب اور ان کی ہیبت اس وقت بھی پھیل رہی تھی جب ان کو مارا جار ہا تھا ان لوگوں کو دنیا میں کون شکست دے سکتا ہے۔یہ اہل اللہ ہیں جن کے مقدر میں کسی حالت میں بھی شکست نہیں۔جب تم ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہو اس وقت بھی خدا ان کو عزت دے رہا ہوتا ہے۔پس آج میں نے سوچا کہ ان کا پھر ذکر کروں کیونکہ ان لوگوں کے ذکر سے ان قربانیوں کرنے والوں کے تذکرے سے جماعت روحانی لذت پاتی ہے، نئی تقویت پاتی ہے۔کچھ دن اگر ان کا ذکر نہ چلے تو وہی فیض کے شعر والی بات ہو جاتی ہے۔چمن اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے (نسخہ ہائے وفا ) کہ کچھ دن سے ذکر یار نہیں سنا ہم نے اور چمن ہمارا اداس ہو گیا ہے۔اس لئے صبا سے کچھ تو کہو کہ خدا کے لئے کہیں تو ذکر چلے لیکن یہ جن کا ذکر میں کر رہا ہوں ان کا ذکر دنیا کے یاروں سے ایک مختلف ہے۔آج جب اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میری زبان پر یہ ذکر جاری ہوتا ہے تو لکھوکھہا احمدیوں کی زبانوں پر یہ ذکر جاری ہوتا ہے اور پھر وہاں تک بھی محدود نہیں رہتا کروڑوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔مشرق سے مغرب تک یہ ذکر چلتا ہے اور شمال سے جنوب تک یہ ذکر چلتا ہے اور دنیا کی طرح دنیا کے گردگھومتا ہے۔ہر قوم تک یہ ذکر پہنچتا ہے، ہر مذہب کے ماننے والوں تک یہ ذکر پہنچتا ہے پس ان کا ذکر تو اس ذکر یار سے کہیں مختلف ہے جس کا ذکر فیض اپنی زبان میں کر رہا ہے۔ان کا وہ دکھ ہے جو میرے دل میں گزرتا ہے تو صرف میرے دل میں نہیں گزرتا لکھوکھا احمدیوں کے دلوں کو وہ موم کر دیتا ہے اور دعاؤں کے لئے پگھلا دیتا ہے اس لئے ان کے ذکر کے