خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 720
خطبات طاہر جلدم 720 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۸۵ء ضامن بنتا چلا جاتا ہے۔یہ وہ خوف ہے یہ وہ حذر ہے جس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔تو فرمایا اگر احمدی اس بات پر قائم ہو جائیں تو پھر لازماً ان کا عرصہ حیات دنیا میں کوئی بھی تنگ نہیں کر سکتا۔وہ پھیلتے چلے جائیں گے، نئی نئی رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عطا ہوں گی ،نئی نئی برکتیں ان کے گھروں پر باران رحمت بن کر نازل ہوں گی اور یہ اجر اس دنیا میں بھی ملے گا ہم انہیں آخرت کا انتظار نہیں کروائیں گے۔جو کچھ ان کے مال لوٹے جائیں گے، جو کچھ ان کو دکھ دیئے جائیں گے اس کا بدلہ ہم ان کو اس دنیا میں ساتھ دیں گے لیکن یہی تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اس بدلے کو وسیع کر دیں گے یعنی واسعة کا مضمون بھی ہر مضمون میں پھیل جاتا ہے ایسا عجیب یہ فصیح و بلیغ کلام ہے کہ ایک لفظ دوسرے کے ساتھ جوڑ رکھتا ہے اور ایک دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔تو یہاں وَاسِعَة کا مضمون یہ ہے کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو بھی ہم حسن عطا کرتے چلے جائیں گے اور ان کی دنیاوی نعمتوں میں بھی اضافہ کرتے چلے جائیں گے اور اس رحمت کو دنیا تک ہی محدود نہیں رکھیں گے بلکہ آخرت تک وسیع کردیں گے کیونکہ اللہ کی ارض یہ ارض نہیں ہے جو تمہاری ارض ہے وہ دونوں جہان پر وسیع ہے۔جب ارض اللہ کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ دنیا کی زمین نہیں رہتی ارض اللہ تو ساری کائنات پر حاوی ہے۔كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ (البقره: ۲۵۶) تمہاری ارض اور تمہارے آسمان خدا کے تخت کے نیچے ہیں۔پس فرمایا پھر وہ اپنے اجر کو وسعت عطا کرے گا اور اس دنیا میں بھی اجر دے گا اور دوسری دنیا میں بھی اجر دے گا اور پھر فرمایا یہ اجر کا طریق بھی اتنا وسیع ہوگا نہ یہاں حساب چلے گا اور نہ وہاں حساب چلے گا، یہاں بھی بے حساب ہوگا اور وہاں بھی بے حساب ہوگا۔تو جن خوش نصیبوں سے تھوڑی سی معمولی سی قربانی لے کر اتنے عظیم الشان وعدے ہوں اور ان وعدوں کی یقین دہانی کے لئے نقد سودے بھی ساتھ ہو رہے ہوں ان سے کون ان کا ایمان چھین سکتا ہے، کون ان سے خدا تعالیٰ کی راہوں پر چلنے کا عزم چھین سکتا ہے، کون ان کے حوصلوں کا سر نیچا کر سکتا ہے ناممکن ہے۔تو جو چاہیں کریں جس قسم کے ہتھیار ان کے پاس ہیں لے کر باہر نکلیں لازماً انہوں نے نامراد رہنا ہے، لازماً انہوں نے ناکام رہنا ہے کیونکہ قرآن کریم یہ اعلان فرما رہا ہے۔جو جیتنے والی صفات حسنہ بیان فرما رہا ہے وہ تو ہماری ہیں اور تم ہماری صفات بڑھانے میں مدد کر رہے ہو ہیں کم کرنے میں نہیں۔یہ دو اور دو چار سے بھی زیادہ روشن بات ہے کہ بہر حال جماعت