خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 721
خطبات طاہر جلدم 721 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۸۵ء احمد یہ غالب آئے گی، ہر سرزمین پر غالب آئے گی ، ہر جہاد میں غالب آئے گی، ہر مقابلے میں غالب آئے گی۔اب میں اہل انگلستان کو یہ بتانے کے لئے کہ بس کہیں ان کو یہ وہم نہ ہو جائے کہ انہوں نے بھی قربانی میں خوب حصہ لے لیا اور وہ اہل پاکستان کیبر ابر ہو گئے۔میں پاکستان کا بھی ذکر تھوڑا سا کردوں۔جن مظالم کا جماعت احمدیہ پاکستان اس وقت نشانہ بنی ہوئی ہے اس کا عشر عشیر بھی یہاں آپ نہیں دیکھ رہے۔چند گالیاں ان کی چھپ گئیں، چندان کے فحش کلامی کے نمونے آپ نے یہاں دیکھ لئے اور آپ کے دل جل گئے اور آپ نے سمجھا کہ بس یہی بہت ہو گئی ،اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔وہاں دن رات پیشہ ور مولوی اس کے سوا اور کام ہی کوئی نہیں جانتے کہ غلیظ سے غلیظ گالیاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیں اور صرف پیشہ ور مولوی ہی نہیں حکومت کے سربراہ بھی اس مشغلے میں ان کے ساتھ ہیں اور وقتا فوقتا یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں کہ تم ایک مظلوم اور بے سہارا قوم ہو تم ایک مجبور قوم ہو، ہم تمہیں ہر طرح ذلیل اور رسوا کریں گے، ہر قسم کا دکھ تمہیں دیں گے اور اسی پر بس نہیں کی جاتی پھر قتل و غارت کی تعلیم دی جاتی ہے ، پھر قتل و غارت ہوتے ہیں پیشہ ور آدمی رکھے جاتے ہیں۔اگر چہ بیٹے کی سرزمین میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھایا کہ ایک احمدی کے مقدس خون سے وہ سرزمین شاداب ہوئی ہے یہ اہل انگلستان کی خوش قسمتی ہے مگر یہ نہ سمجھ لیں غلط نہی سے کہ وہ سب کچھ جو وہاں ہو رہا ہے وہ آپ کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ان حالات میں سے گزرنے کے بعد آپ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک طعمہ ہے محض ، ایک چھوٹا سا لقمہ ہے یہ بتانے کے لئے کہ قربانیاں دور سے دیکھنا اور چیز ہوتا ہے اور قربانیوں میں سے گزرنا کچھ اور بات ہوتی ہے۔یہ دو چیزیں ایک جیسی نہیں ہوا کرتیں۔چنانچہ ایک جواب جو اس سوال میں مخفی ہے وہ یہ بھی ہے فرمایا کہ وہ لوگ جو ان تجربوں میں سے گزر رہے ہیں ان مومنوں جیسے تو نہیں ہو سکتے جو نظریاتی طور پر یہ ساری باتیں مانتے ہیں لیکن ان تجارب میں سے ان کی زندگیاں نہیں گزریں۔خدا کی عبادت اور اس کی خاطر قربانیاں اور خدا کی خاطر صبر اور رضا کی اور خاموشیاں یہ تجربے عملاً ان کو حاصل نہیں ہوئے تھوڑا بہت یہاں اور وہاں چکھ لیا ہے نظریاتی طور پر ایمان رکھتے ہیں لیکن یہ اس جیسے نہیں ہو سکتے۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا