خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 719

خطبات طاہر جلدم 719 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۸۵ء چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا انت میں جو خاموشی ہے اس کا ایک معنی صبر بھی ہے خدا کی خاطر دکھ اٹھانا اور واویلا نہ کرنا شکوے نہ کرنا کہ او ہو ہم ایمان لے آئے تھے ہمارے پر یہ مصیبتیں پڑ گئیں۔از دیا دایمان کی خاطر بعض دفعہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا یقین دلانے کے لئے وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے خدا کی خاطر معمولی سا یہ دکھ اٹھایا تھا تو خدا نے یہ جزا دی مگر احسان کے طور خدا والوں کو بتانے کے لئے کہ دیکھو ہم نے اس نام میں کیسی مصیبت پائی ہے وہ ہرگز کبھی کوئی ایسا اظہار نہیں کیا کرتے بلکہ خدا کی خاطر صبر کرتے ہیں ان کے لئے فرمایا بے حساب اجر ہے۔پس جہاں تک ان کی اس کوشش کا تعلق کہ وہ خدا کی راہ میں روڑے اٹکادیں اور وہ لوگ جو سچائی کی طرف مائل ہو رہے ہیں ان کو مائل ہونے سے روک دیں اور جہاں تک ان کی اس کوشش کا تعلق ہے کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلنے سے روک دیں اور ان پر زمین تنگ کر دیں تو یہ آیات بتا رہی ہیں کہ اگر احمدی قانت رہیں گے ان تینوں معنوں میں جو میں نے بیان کئے ہیں اور اگر احمدی خدا کے حضور راتوں کو اٹھنا نہیں چھوڑیں گے ، راتوں کے سجدوں سے غافل نہیں رہیں گے اور راتوں کے قیام سے غافل نہیں رہیں گے اور اگر احمدی دنیا کے خوف سے آزاد ہو کر آخرت کے خوف کو اپنالیں گے اور اس خوف کا یہ معنی نہیں ہوگا کہ وہ خدا کو محض ایک عذاب دینے والے وجود کے طور پر متصور کریں بلکہ رحمت کی امید رکھتے ہوئے خوف کریں گے۔ان دونوں کو اس طرح ملا دیا ہے کہ خوف کو رحمت پر غالب نہیں آنے دیا بلکہ رحمت کو خوف پر غالب کر دیا۔پہلے خوف کا ذکر اور بعد میں رحمت کا ذکر یہ طرز بیان ہی بتا رہی ہے، یہ وہ ایسی ترتیب ہے کہ اگر پہلے خوف کا ذکر ہونے کی بجائے رحمت کا ذکر ہوتا اور پھر خوف کا ذکر ہوتا تو یہ ڈرانے کا طریق ہے اور اگر تھوڑا سا ڈرا کر پھر اس خوف کو دور کر دیا جائے اور رحمت اور پیار کی باتیں شروع کر دی جائیں تو یہ تبشیر کا طریق ہوا کرتا ہے۔تو فرمایا کہ وہ لوگ خدا سے ڈرتے تو ہیں لیکن ایک ظالم کے طور پر نہیں ڈرتے ، ایک منتقم کے طور پر اس سے نہیں ڈرتے ،ایسے خدا کا تصور نہیں رکھتے کہ جس سے ڈرتے ڈرتے جان ہی انسان کی نکل جائے اور اس سے بخشش کی امید نہ ہو بلکہ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ ( البقرہ:۲۱۹) ایسی حالت میں ڈرتے ہیں کہ اس ڈر کے نتیجہ میں بھی وہ رحمت کی توقع رکھتے ہیں۔جوں جوں خدا کا خوف ان کے دل میں بڑھتا چلا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو زیادہ خدا کی رحمت کا مستحق سمجھنے لگ جاتے ہیں گویا کہ خوف ہی خدا کی رحمت کا ان کے لئے