خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 713
خطبات طاہر جلدم 713 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۸۵ء ہونے کی صفت پائی جاتی ہے۔حکم خداوندی ہے اور اطاعت کا تقاضا یہ ہے کہ جب خدا فرماتا ہے کہ بعض نیکیاں علی الاعلان کرو تو علی الاعلان ہی کرو کیونکہ اس سے قوم میں نیکی کی روح زندہ رہتی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے منافق اور غیر منافق میں ، قانت اور غیر قانت میں کہ منافق آدمی کی نیکیاں صرف سطح پر رہتی ہیں اور نظر آنے والی ہوتی ہیں اور اندر اس کے بدیاں بھری ہوئی ہوتی ہیں جن کے اوپر پردہ پڑا ہوتا ہے۔مومن میں بھی کمزوریاں ہوتی ہیں، مومن سے بھی غفلتیں ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنی نیکیوں کو بھی چھپاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کی نیکیوں کا ایک حصہ مخفی رہے۔چنانچہ خدا کی راہ میں قانت کا مطلب ہے اپنی نیکیوں پر پردہ ڈالنے والے، خاموشی کے ساتھ سے نیکیاں، اپنے اور رب کے تعلقات کو چھپانے والے اور ہر نیک انسان کے اندر یہ شرط لازماً ہونی چاہئے ورنہ وہ قانت نہیں کہلا سکتا۔یہ وہ صفات ہیں تبھی قانت کہتے ہیں فرمایا قَانِتُ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِما خاموشی کے کیا معنی ہیں۔صرف دن کو عبادتیں نہیں کرتے وہ رات کے پردوں میں چھپ کر بھی خدا کی راہ میں کھڑے ہونے والے لوگ ہیں ، وہ رات کے پردوں میں بھی خدا کے حضور سجدہ کرتے ہیں صرف وہ دن کی روشنی میں اطاعت شعار نہیں بنتے۔فرمایا کیا یہ لوگ جو ایسی صفات رکھتے ہیں اور آخرت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور آگے جواب کوئی نہیں دیا گیا۔یہیں جملہ ختم ہو گیا۔ترجمہ کرنے والے اور مفسرین بیچارے یہاں پھر مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔کہتے ہیں اس کا کیا جواب ہے؟ تو جواب اکثر تر جموں میں یہی دیا جاتا ہے جو ایک Neutral اور درمیانی جواب ہے جس سے فقرہ مکمل ہو جاتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کا ایک انداز بیان ہے کہ فقرہ کا وہ حصہ جس کا مطلب ظاہر ہی ہے اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ از خود انسان کے منہ پر وہ جاری ہو جائے گا۔چنانچہ وہ یہ معنی لیتے ہیں کہ کیا وہ شخص اور یہ شخص جو نہ کرتا ہو برابر ہو سکتے ہیں، ایک جیسے ہو سکتے ہیں جو یہ باتیں نہ کرتا ہو۔ایک جیسے کا مفہوم درست ہے لیکن ان معنوں میں کہ کیا اللہ کا سلوک ان سے وہی ہوسکتا ہے جو ان صفات سے عاری لوگوں سے ہوگا۔اس کا اصل طبعی نتیجہ یہ ہے۔یہاں یہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ جب قرآن کریم ایک سوال اٹھا کر اس کا جواب دیئے بغیر آگے گزرتا ہے تو اس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ چونکہ جواب ظاہر ہے اس لئے خدا تعالیٰ