خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 712
خطبات طاہر جلدم 712 خطبه جمعه ۲۳ را گست ۱۹۸۵ء ہمیں خدا کی ناراضگی کا مورد نہ بنادے، ہمارا انجام بد نہ ہو جائے۔یہاں جو لفظ قانت استعمال کیا گیا ہے یہ وہ ایک بنیادی صفت ہے جو اس تمام جملے پر حاوی ہے آمَنْ هُوَ قَانِتٌ۔قانت کے عربی میں تین معنی ہیں:۔قانت کا ایک مطلب تو ہے اطاعت شعار۔مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان کے رنگ ظاہر ہوتے ہیں اس پر اطاعت کا رنگ غالب ہوتا ہے۔اگر وہ غصہ کا اظہار کرتے ہیں تب بھی اطاعت خداوندی کی وجہ سے، اگر وہ نرمی دکھاتے ہیں تب بھی اطاعت خداوندی کی وجہ سے، اگر مقابل پر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں تب بھی اطاعت خداوندی کی وجہ سے ،اگر انتقام سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور معاف فرما دیتے ہیں تب بھی وہ اطاعت خداوندی کی وجہ سے۔دوسرا اس کا معنی ہے خشوع و خضوع کرنے والے۔اللہ کے حضور وہ بہت زیادہ جھکنے والے ہیں اور عاجزی دکھانے والے ہیں۔ان کی جو اطاعت ہے وہ ان کے بجز کی وجہ سے ہے ، وہ خدا کے حضور اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے ، اللہ کی راہ میں بچھ جاتے ہیں، اپنے وجود کو خدا کی راہ میں مٹا بیٹھتے ہیں۔اس لئے ان کے لئے سوائے اس کے کوئی تقدیر ہی باقی نہیں رہتی کہ خدا کا رنگ ان پر غالب آ جائے جو کچھ کر میں خدا کی خاطر کرنے لگ جائیں اور تیسرا معنی اس کا ہے خاموش۔مفسرین نے اس موضوع پر بڑی دلچسپ بخشیں اٹھائی ہیں کہ خاموش کا یہاں کیا تعلق ہے؟ بعض کا خیال ہے کہ خاموشی سے عبادت کرتے ہیں لیکن عبادت میں تو اونچی آواز میں بھی عبادت ہوتی ہے ہلکی آواز میں بھی عبادت ہوتی ہے۔دعائے قنوت جولفظ ہے وہ لفظ اسی سے نکلا ہے یا قنوت سے قانت نکلا ہے، یہ کہنا چاہئے اور وہاں خشوع و خضوع کی دعا مراد ہے تو یہاں خاموشی کے کیا معنی ہیں۔اگلی آیت میں چونکہ صبر کا مضمون ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خاموشی سے مراد خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے کے باوجود واویلا نہ کرنے والے خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھا کر خاموشی سے ان کو برداشت کرنے والے اور اللہ سے اپنے تعلقات کا اظہار نہ کرنے والے۔اللہ سے جو پیاران کو نصیب ہوتا ہے اس پر وہ تعلی کے طور پر اسے دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے بلکہ ان کے اللہ تعالیٰ۔کچھ مخفی تعلقات رہتے ہیں وہ خدا اور بندے کے درمیان ایک راز رہتا ہے۔چنانچہ حقیقی نیکی کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ کچھ اس کا نظر آنا بہر حال ایک طبعی امر ہے کیونکہ کچھ عبادتیں اجتماعی عبادتیں ہوتی ہیں۔کچھ نیکیاں ہیں جن میں قرآن کریم کی رو سے علی الاعلان