خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 704 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 704

خطبات طاہر جلد ۴ 704 خطبه جمعه ۱۶ اگست ۱۹۸۵ء شروع بھی کرتا ہے پکڑ کو اور پھر دوہرانا بھی جانتا ہے۔ جس طرح تم ظلم کی ابتداء کرنا جانتے ہوں اور اس ظلم کی تکرار جانتے ہو اس طرح اپنے بندوں کا رب تمہیں پکڑنا اور پھر اس پکڑ کی تکرار بھی جانتا ہے لیکن نہ وہ رب اس میں لطف اٹھاتا ہے نہ اس کے بندے یہ چاہتے ہیں وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ عجیب قرآن کریم کا انداز بیان ہے کہ روح اس کلام پر عاشق ہو جاتی ہے۔ کسی انسان کا کلام ہوتا تو اس کے بعد یہ آنا چاہئے تھا وہ بڑا منتقم ہے اور بڑا ہی شدید ہے پکڑ میں ۔ فرمایہ رہا ہے وہ پکڑنا بھی جانتا ہے ۔ آغاز بھی پکڑ کا جانتا ہے اور اس کی تکرار بھی جانتا ہے اور نتیجہ یہ نکال رہا ہے وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُ رُ الْوَدُودُوہ بہت ہی زیادہ بخشنے ہ بخشنے والا ہے اور بہت ہی زیادہ پیار کرنے والا ہے ۔ کیا تعلق ہے اس کا اس پہلے فقرے سے؟ ایک تعلق تو یہ ہے کہ نصیحت کی خاطر بتایا جا رہا ہے کہ باوجود اس کے کہ خدا کی پکڑ کی تقدیر ظاہر ہو چکی ہو۔ وہ کھل کے بتا چکا ہو، وہ اتنا مغفرت کرنے والا ہے، اتنا پیار اور محبت کرنے والا وجود ہے کہ اگر اب بھی تم باز آجاؤ تو اب بھی وہ اپنی پکڑ کو اٹھا لے گا اور اپنی پکڑ کے ہاتھ کو کھینچ لے گا۔ اور دوسری طرف اسی فقرے میں ان کی انتہائی ظالمانہ حالت کا پول کھولا گیا ہے فرماتا ہے اس خدا سے تم مار کھاؤ گے جو اتنا ودودا تنا پیار کرنے والا اور اتنا مغفرت کرنے والا تھا۔ سوچو کہ تم نے ظلم میں ہر قسم کی حدیں توڑ دی ہوں گی ہر قسم کی انتہا کر دی ہو گی تبھی جا کر غفور اور و دو دخدا سے مار کھا رہے ہو۔ عجیب کلام ہے بیک وقت امید کو بھی بڑھاتا ہے اور توبہ کی تلقین فرماتا ہے اور دوسری طرف مطعون کرتا ہے قوم کو کہ تم اگر مار کھاؤ گے اپنے خدا سے تو خالصہ اپنے ظلم و ستم کے نتیجہ میں اور اپنے ظلم پر اصرار کے نتیجہ میں۔ لیکن تمہیں شرم کرنی چاہئے کہ اتنی غفور، اتنی بخشنے والی اور اتنی محبت کرنے والی ہستی کے عذاب کے نیچے آگئے ، اس کے پیار اور اس کی محبت کا نمونہ نہ دیکھا۔ پس ہم تو غفور اور و دو دخدا پر راضی ہیں اُسی پر ہمارا تو کل ہے اور یہی ہمیں پیغام ہے۔ وَدَعْ أَذْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (الاحزاب :۴۹) ان کے دکھوں، ان کی اذیتوں اور ان کے مظالم کو نظر انداز کر دو اور اپنے رب پر توکل رکھو۔ لا ز ما وہ تم پر رحم فرمائے گا اور لاز ما وہ تمہیں غلبہ عطا کرے گا اور اگر یہ ظلم اور تشدد میں اور زیادتیوں میں باز نہیں آئے