خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد۴ 694 خطبه جمعه ۶ ار ا گست ۱۹۸۵ء ہے اور اسلام کا سچا ہمدرد سوائے فوجی ٹولے کے کچھ ہو ہی نہیں سکتا، ظاہر بات ہے کہ فوج ہی ہے جو اسلام کو نافذ کرے گی ورنہ تم لوگوں کے بس میں ہو تو تم تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہ چھوڑو، یہ ہے استدلال کا خلاصہ۔تو جب غیر ملکوں میں یہ اس پروپیگنڈا کو پھیلاتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں کچھ لوگوں پر اثر پڑتا ہے لیکن ایک فرق ہے خدا کے فضل سے یہاں ہمیں بھی بولنے کا حق ہے، دنیا کے ہر دوسرے ملک میں جماعت احمدیہ کو بولنے کا حق ہے اور وہاں ہم جواب دیتے ہیں ان کو سمجھاتے ہیں، ان کو بتاتے ہیں کہ بھئی ہم تو ایک کشتی میں ہیں تم بھی مظلوم ہو ہم بھی مظلوم ہیں۔صرف یہ کہ ہم زیادہ مظلوم ہیں تم ذرا کم مظلوم ہو اس سے زیادہ تو کوئی فرق نہیں۔تو پھر وہ سمجھتے بھی ہیں۔ایک تو میں جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس پروپیگنڈا کو سمجھنے کے بعد کوئی ایسی بے احتیاطی کا کلمہ منہ سے نہ نکالیں کہ اس پرو پیگنڈا کو تقویت حاصل ہو۔کھول کر بتانا چاہئے کہ ہم ہر گز پاکستان کے دشمن نہیں۔نعوذ بالله من ذالک اس کا تو وہم و گمان بھی کسی احمدی کے دل میں نہیں آسکتا بلکہ پاکستان کے سب سے زیادہ فدائی اور وفادار شہری ہم میں خدا کے فضل سے اور ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت ہمیں ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے پھر بھی ہم پاکستان کی وفاداری نہیں چھوڑتے۔ہاں ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ایک ٹولے کے ظلم کے خلاف جو تمام دنیا میں پاکستان کو بدنام کروا رہا ہے۔تمام دنیا میں اسلام کو بدنام کروا رہا ہے کیونکہ اسلام کا نام لے کر وہ اپنے زندہ رہنے کا عذر پیش کر رہا ہے اور ظلم کو اگر اسلام کا سہارا دیا جائے گا تو اسلام بدنام ہوگا۔بہر حال ایک تو یہ انہوں نے طریق کا راختیار کیا اب اس سازش کو آگے بڑھایا ہے اور اب یہ حکیم ہے اور یہ خبریں ان علماء کے ماحول سے ہی ہمیں ملی ہیں قطعی طور پر ، یہ اندازے نہیں ہیں جو درباری علماء ہیں جن کی پہنچ ہے درباروں تک۔یہ لوگ دل کے ہلکے ہیں اور بات ہضم نہیں کر سکتے پوری طرح پرو پیگنڈا کرتے ہیں باہر جا کر اور بتاتے ہیں کہ ہم اتنے عظیم الشان لوگ ہیں کہ ہمیں دربار تک رسائی ہو گئی ہے اور بڑے Confidence کے ساتھ ، بڑی راز داری کے ساتھ ہمیں وہ سکیمیں بتائی جاتی ہیں جن پر عمل درآمد کروایا جانا ہے اور اس کے لئے ہمیں ہر قسم کی حمایت کا یقین دلایا جاتا ہے۔تو سازش یہ ہے کہ غیر ممالک میں پاکستان کے عناد کو اس حد تک منتقل کر دیا جائے