خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 693
خطبات طاہر جلدم 693 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء ہو۔صرف پاکستانی احمدیوں نے نہیں غیر پاکستانی احمدیوں نے بھی، افریقن احمدی نے بھی ، انگریز احمدی نے بھی، امریکن احمدی نے بھی، چینی احمدی نے بھی، جاپانی احمدی نے بھی کوئی ملک ایسا بتائیں جہاں احمدیت نے نفوذ نہ کیا ہو اور محض اس محبت کے نتیجہ میں کہ ہمارے وطن میں ہدایت پاکستان سے آئی ہے انہوں نے پاکستان کے حق میں آواز نہ بلند کرنی شروع کر دی ہو۔تو اتنا بڑا جھوٹ بولا گیا اور پھر لوگوں نے اس کو قبول بھی کرنا شروع کر دیا اور بعض جگہ انگلستان میں خاص طور پر بریڈ فورڈ کا علاقہ ہے اسی قسم کے دوسرے علاقے ہیں جہاں آزاد کشمیر کے مزدور پیشہ لوگ بڑی کثرت سے آئے ہوئے ہیں زیادہ تعلیم کا معیار اونچا نہیں، بڑے بڑے تعلیم یافتہ بھی ہیں مگر مذہبی معاملات میں ان کے اندر سوچ اور فکر کی عادت نہیں ہے، بعض امور کا تجزیہ نہیں کر سکتے۔چنانچہ وہاں اور ایسے دوسرے علاقوں میں افریقہ میں بھی احمدیت کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے یہ ہتھیار استعمال کیا گیا کہ یہ تو پاکستان دشمن جماعت ہے، یہ پاکستان کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے ہیں حالانکہ بالکل جھوٹ ہے۔سفید“ اگر نام رکھنا چاہئے تو اس جھوٹ کا رکھنا چاہئے ، یہ سفید جھوٹ ہے۔پاکستان کے خلاف ہمارا ہرگز کوئی پرو پیگنڈا نہیں۔پاکستان کو ظلم سے بچانے کے لئے ہماری کوشش ہے۔باقی سیاسی جماعتیں، جو کروڑہا دوسرے پاکستانی اپنے جائز حقوق سے محروم ہوئے بیٹھے ہیں۔وہ جب آواز اٹھاتے ہیں تو وہ پاکستان دشمن ہو جاتے ہیں؟ ایک جمہوریت کے اوپر مارشل لاء کو نافذ کرنا بتا رہا ہے کہ لازماً استبداد کی حکومت ہے ، لازماً آزادی ضمیر کا کوئی حق باقی نہیں رکھا گیا۔پاکستان کے شرفاء نے اپنے نمائندے منتخب کئے اور ان منتخب نمائندوں پر نہ یہ اعتماد ہے کہ تم ملک کی حفاظت کرو گے، نہ یہ اعتماد ہے کہ تم اسلام کی حفاظت کرو گے، اسلام کی حفاظت کے لئے انہی لوگوں کے فوجی بچے چاہئیں اور ان فوجی بچوں کے ماں باپ اسلام کے غدار ہیں ان کے اوپر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ نعوذ باللہ من ذلک یہ آئیں گے تو اسلام کے جڑیں اکھیڑ کے پھینک دیں گے۔کیا استدلال ہے کیا منطق ہے اس میں! لیکن بہر حال یہی باتیں ہیں یہی ان کا استدلال ہے جو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں مگر فریب کے ساتھ ، پردے ڈال کر ، عقلوں کو دھوکہ دے کر اور یہ کہا جا رہا ہے کہ دیکھو اسلام کو خطرہ ہے احمدیت سے، جب تک احمدیت نہ مٹادی جائے اس وقت تک مارشل لاء جا کیسے سکتا