خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 695 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 695

خطبات طاہر جلد۴ 695 خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۸۵ء اور اتنا عوام الناس یعنی ان مسلمانوں کو جو ان ممالک میں بستے ہیں اتنا ان کو مضطرب کر دیا جائے اتنا مرتعش کر دیا جائے کہ اس کے نتیجے میں وہ قتل و غارت وہاں بھی شروع کر دیں اور جب وہاں قتل و غارت شروع ہوں گے تب ہم ان کو کہیں گے کہ تم ہمیں کہتے تھے کہ تمہارے ملک میں ظلم ہو رہا ہے، یہ تو تمہارے ملک میں بھی ہو رہا ہے۔اُس وقت یہ تجزیہ کوئی نہیں کر سکے گا کہ یہ ظلم کروانے والے بھی تم ہی لوگ ہو، تم نے وہاں زمین کو گندا کیا اور ظلم سے بھر دیا اور اب ہماری زمینوں کو بھی گندا کر رہے ہو اور ظلم سے بھر رہے ہو۔واقعاتی طور پر دنیا کو صرف یہی نظر آئے گا کہ احمدیت تو ہے ہی مغضوب اس کو تو ہر جگہ دنیا نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہر جگہ ان کے خلاف قتل و غارت کی مہم جاری ہے اس لئے پاکستان اکیلا بیچارہ کیا ہے، ساری دنیا اس میں شامل ہوگئی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ جس حمام میں یہ ہیں اس میں باقی بھی آجائیں اور سارے ہی ننگے ہو جائیں ،تقویٰ کے لباس سے عاری ہو جائیں۔یہ ہے سازش جسے پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔تو جماعت کو اس لحاظ سے بھی میں متنبہ کرتا ہوں۔پہلے میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ اپنی حفاظت کا جو انتظام اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار کرنے کی توفیق بخشی ہے وہ ضرور اختیار کریں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی متنبہ کرتا ہوں کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دینا ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دینا، بے حیائی اور مخش کلامی کا جواب بے حیائی اور مخش کلامی سے نہیں دینا، آپ کی تہذیبی اقدار ہیں۔زندہ قوموں کی روایات کی حفاظت کی جاتی ہے آپ بھی ان اعلیٰ روایات کی حفاظت کریں۔اپنے معیار کو نہ گرنے دیں۔سر اُٹھا کر چلیں۔جہاں ظلم ہو رہا ہے وہاں بھی سراٹھا کر چلیں ، جہاں آپ کوسراٹھا کر اجازت ہے چلنے کی وہاں بھی سر اٹھا کر چلیں۔آپ کا سر اخلاقی اور اسلامی اقدار کی نظر میں نہیں جھکنا چاہئے۔اس لحاظ سے آپ کا سر ہمیشہ بلند رہنا چاہئے۔یعنی ظاہری طور پر تو ایک مظلوم کا سر ز بر دتی جھکا یا جا سکتا ہے لیکن اگر اس کی اقدار کا سر بلند ہے، اس کے اخلاق کا سر بلند ہے تو خدا کی نظر میں وہی سر بلند کہلاتا ہے۔اس لئے اس لحاظ سے آپ نے ہرگز کسی قسم کی شکست کو تسلیم نہیں کرنا قبول نہیں کرنا اپنی اقدار کی حفاظت کریں۔اور ان اقدار کے اندر رہتے ہوئے یہ تہیہ کر لیں کہ ہر جگہ جہاں احمد بیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اس کا برعکس نتیجہ پیدا کریں گے اسی لئے میں تبلیغ پرزور دیتا ہوں۔