خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 686
خطبات طاہر جلدم 686 خطبه جمعه ۹ را گست ۱۹۸۵ء چاہے تو ان کو معاف فرما دے۔اِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔يَتُوبَ عَلَيْهِمْ سے مراد معاف فرمانا ان معنوں میں ہے کہ ان کو تو بہ کی توفیق بخشے اور پھر ان کی تو بہ کو قبول کرلے۔یعنی جرم کر کے یکطرفہ معافی اور بات ہے بسا اوقات خداوہ بھی دیا کرتا ہے۔لیکن یہاں يَتُوبَ عَلَيْهِمْ سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو تو بہ کی تو فیق عطا فرمائے اور پھر اس تو بہ کو قبول کرلے۔تو اِن شَاءَ اَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ یہ دو جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس موقع پر جو اظہار رکھے ہیں Expressions رکھے ہیں ان سے بھاری امید بندھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر گز بعید نہیں کہ اس قوم کو یعنی ان کی اکثریت کو توبہ کی توفیق بخشے اور ہدایت عطا فرمائے۔اس لئے جب آپ کو میں کہتا ہوں کہ مقابلہ کے لئے تیار رہیں تو ہرگز مراد یہ نہیں ہے کہ نفرت کے ساتھ مقابلہ کے لئے تیار رہیں یا انتقامی کارروائیوں کے لئے تیار رہیں۔آپ کی انتظامی کارروائی تو اصلاح میں ہے اور بخشش میں ہے اور مغفرت میں ہے اور اس آیت کو سننے کے بعد آپ کے دل میں امید کی شمع روشن ہو جانی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ان میں سے بھی خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ نور کے سوتے چاہے تو نکال سکتا ہے۔خدا تعالیٰ چاہئے تو ان میں سے بھی ہدایت یافتہ پیدا فرما سکتا ہے۔یہ امید ہے جس کو لے کر آپ آگے بڑھیں اور یادرکھیں یہ بے معنی نہیں ہے حیرت انگیز طور پر نہایت ہی فصیح و بلیغ کلام کیا گیا ہے جو مستقبل پر بھی اثر انداز ہورہا ہے۔یعنی واقعہ گزشتہ زمانے کا بیان کیا جارہا ہے لیکن الفاظ ایسے ہیں جو اسلام کی بعثت ثانیہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے آپ اپنی قوم پر اور اپنے مخالف مسلمانوں پر خواہ وہ آپ کے ہم وطن ہوں یا نہ ہوں بد دعا نہ کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے اگر بے اختیاری ہے مجبوری ہے بہت دکھ اٹھاتے ہیں تو ائمہ التکفیر کے لئے آپ کو بددعا کا حق ہے لیکن ان لوگوں پر نہ کریں ان کے لئے ہمدردی دل میں رکھیں، امید کا دامن نہ چھوڑیں تبلیغ تو کل کے ساتھ اور امید کے ساتھ کریں اور ساتھ دعا کریں۔اگر آپ اس نصیحت پر عمل پیرا ہوں گے تو انشاء اللہ دیکھتے دیکھتے یہیں سے ہی جو دشمن ہیں وہ دشمن آپ کے دوست بنے لگ جائیں گے۔تم دیکھو گے کہ انہیں میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے