خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 666

خطبات طاہر جلدم 666 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء ہے نہ ان کو پتہ ہے۔لیکن حَفِيٌّ عَنْهَا کا جواب ان پر بھی صادق آ جاتا ہے کہ وہ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں اس آیت کے مطلوب کے طور پر کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں بھی یہ اچھوی تو ضرور لگی ہوئی ہوگی کہ میں کوئی دن معین کر سکوں اور بتا سکوں کہ فلاں دن تم پر عذاب آجائے گا تو چونکہ پیشگوئی کر نیوالا پیشگوئی کرتا ہے کسی بناء پر ، دشمن اگر چہ یقین بھی رکھتا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ سے خبر پا کر یہ پیشگوئی نہیں کر رہا تو یہ تو ضرور خیال کر سکتا ہے کہ اٹکل پچو جس طرح وہ پیشگوئیاں کیا کرتے ہیں اس کے پاس بھی ہے کوئی طلسم اس کے پاس بھی ہے کوئی آثار اس نے بھی دیکھے ہوئے ہیں اور کوشش کر رہا ہے یہ ، بڑی محنت کر رہا ہے کہ معلوم کر سکے کہ اس کے عمل جوتش وغیرہ کے ذریعہ سے وہ کون سا دن بنتا ہے۔تو حَفِيٌّ عَنْهَا کا یہ معنی ہوگا اس موقع پر کہ یہ سمجھتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ تو بھی اس بات کے پیچھے پڑ چکا ہے کہ میں وہ دن معلوم کر کے رہوں جس دن دشمن پر عذاب آ جانا ہے اور مومن جب سوال کرتے ہیں تو وہ ایمان کے نتیجے میں سوال کرتے ہیں ، حسن ظن کے نتیجہ میں سوال کرتے ہیں۔وہاں حفی کا یہ معنی ہوگا کہ گویا تجھے خوب یقینی طور پر علم ہے کہ وہ کیا ہے، صرف چھپا رہا ہے ان سے۔تو فرماتا ہے دونوں قسم کے سائلوں کے لئے جواب یہ ہے قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ ان سے کھول کر کہ دے کہ علم تو ہے اس کا لیکن اللہ کے پاس ہے۔وَ لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (الاعراف: ۱۸۸) لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔اب یہ اکثر لوگ نہیں جانتے کا حصہ جو ہے یہ بھی ایک بڑا معمہ سا بن گیا ہے۔اگر تو خدا نے یہ فرمانا ہو کہ مجھے علم ہے صرف تو پھر ا کثر کا لفظ استعمال نہیں ہونا چاہئے پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ لوگ بالکل بھی نہیں جانتے اس بات کو۔تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا کچھ نہ کچھ ترشح علم کا فرما تا رہتا ہے مومنوں کے اوپر۔باوجود اس کے کہ عمومی طور پر اختفاء کے پردے میں رکھتا ہے لیکن کچھ اشارے یہاں، کچھ اشارے وہاں، ایک علم کا تھوڑ اسا ترشح ہوتا رہتا ہے اور کچھ لوگوں کو خدا تعالیٰ خبریں دیتا رہتا ہے گودن کو سو فیصدی یقین کے ساتھ تو وہ ظاہر نہیں کر سکتے لیکن جب انگلیاں آخر پر اٹھتی ہوئی نظر آتی ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہی دن تھا۔تو کچھ نہ کچھ علم مومن کو ضرور ملتا ہے۔وہ کافروں کی طرح کلیہ بے علم نہیں رہتا۔لیکن اس علم میں دن کی تعیین ایسے نہیں ہوتی کہ بَغْتَةً کے خلاف ہو بَغْتَةً کا مضمون بھی جاری رہے گا۔