خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 667
خطبات طاہر جلدم 667 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء یہ میں اس لئے کھول رہا ہوں کہ آج کل غیروں کے متعلق بھی یہ اطلاعیں آرہی ہیں۔اب تو مولویوں نے خطبوں میں بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ جو کہتے تھے کہ ہوگا۔کچھ بھی نہیں ہوا، تماشے ہیں صرف ، قصے ہیں ان کے، ہونا ہی کچھ نہیں ، سب جھوٹ ہے ان کا ، جو مرضی کرتے چلے جاؤ ، کوئی خدا نہیں ہے جو پوچھنے والا ہو اور بعض احمدی بھی گھبرا گئے ہیں ، تھک رہے ہیں وہ کہتے ہیں آخر کب آئے گی خدا کی مدد، ہم تو سنا کرتے تھے کہ مدد آ جائے گی ، آئے گی اور آئے گی۔آپ بھی وعدہ کرتے رہتے تھے، اب آئے گی کل آئے گی پرسوں آئے گی بتا ئیں وہ کہاں ہے؟ ایسے بہت کم ہیں جو اس طرح بے تابی کا اظہار کرتے ہیں گویا صبر ٹوٹ چکا ہے، بہت کم ہیں لیکن اکثر دل کی ڈھارس کے لئے اطمینان قلب کے لئے پوچھتے تو رہتے ہیں۔اس لئے ان کو میرا یہی جواب ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو برس پہلے دیا تھا کہ خدا کی تقدیر کو عمومی طور پر سمجھنے کی کوشش کرو۔وہ تمہارے جذبات سے وابستہ نہیں ہے۔تمہاری انفرادی خواہشیں ، خدا کی تقدیر کو ڈھالنے والی نہیں بنیں گی نہ کبھی بنی ہیں۔قوموں کی زندگی اور قوموں کی موت کے متعلق خدا کے کچھ فیصلے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ وہ لمبا وقت چاہتے ہیں ظاہر ہونے کے لئے ،اور جب تک وہ تقدیر پختہ نہ ہو جائے وہ باتیں نہیں ظاہر ہوا کرتیں۔بعض دفعہ آزمائش کے دور خدا لمبے کرتا ہے، بعض دفعہ نعمتوں کے دور لمبے کرتا ہے، بعض دفعہ خوف کے دور لمبے کر دیتا ہے ، بعض دفعہ مہلتوں کے دور لمبے کر دیتا ہے اور اس کا ایک مقصد ہوا کرتا ہے۔پس خدا جب عمومی تقدیر جاری فرماتا ہے تو تمہاری محدود عقلیں اُس تقدیر کو جانچ نہیں سکتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر خوب کھول کر بیان فرماتا ہے کہ قومی تقدیر میں تو ہزار ہزار برس کا بھی ایک دن آجایا کرتا ہے، ہزار ہزار برس کی بھی رات ظاہر ہو جایا کرتی ہے۔تو تم ان باتوں کو جانتے ہوئے کیوں پھر خدا کی تقدیر کے برعکس نتائج دیکھنا چاہتے ہو۔دوسری طرف یہ مضمون ہے کہ جہاں تک ان ظالموں کا تعلق ہے جو تم پر ظلم کر رہے ہیں خدا ان کو ضرور پکڑے گا ان کے لئے ہزار برس کا وعدہ نہیں ہے لازماً پکڑ آئے گی لیکن ایسے وقت میں آئے گی کہ جب ان کو بھی توقع نہیں ہوگی اور تمہیں بھی توقع نہیں ہوگی۔اچانک ایک دن تمہاری آنکھیں کھلیں گی اور تم دیکھو گے کہ خدا کی وہ تقدیر جاری ہو چکی ہے۔اس لئے بے صبری کر کے اپنے ثواب کو ضائع نہ کرو اور اس لطف کو ضائع نہ کرو جو صبر کے نتیجہ میں تمہیں آئے گا۔اگر تم صبر کے ساتھ ، تو کل کے ساتھ بیٹھے رہو۔پھر جب تم