خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد۴ 665 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء الصلوۃ والسلام کے الہام میں اسے دہرایا گیا ہے بار بار یہ بتانے کے لئے کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ بَغْتَةً کا واقعہ ایک دفعہ نہیں بلکہ بار ہا ہوگا ( انڈیکس تذکرہ زیر لفظ بغتة)۔جب ہو گا تو اس وقت انسان معتین طور پر بتا سکے گا کہ ہاں اسی بات کا فلاں الہام میں بھی ذکر تھا کیونکہ اُس جگہ بھی انگلی کا اشارہ موجود ہوگا اور وقت بتادے گا کہ ہاں اسی طرح تھا اور ایسی دلیل موجود ہوگی کہ دشمن محسوس کر لے گا کہ ہاں یہ کہنے والے سچے ہیں۔یعنی بعض الہامات باوجود اس کے کہ آپ پہلے معین نہیں کر سکتے ان کے وقت کو ، جب ظاہر ہوتے ہیں تو اس قطعیت کے ساتھ اس شان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں کہ دشمن بھی مجبور ہو جاتا ہے یہ تسلیم کرنے پر کہ ہاں اس بارے میں یہ سچ کہہ رہے ہیں ساری علامتیں موجود تھیں پہلے سے اگر چہ ہم سمجھ سکے ہوں یا نہ سمجھ سکے ہوں تو بغتة نے اس مضمون کو کھول دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ ہزار برس بعد کی بات نہیں ہے۔جو ظالم قوم ہے وہی پکڑی جائے گی اور جب ہم کہتے ہیں کہ ایک ہزار برس کا دن تو مراد یہ ہے کہ وہ بھاری دن ہوگا ثَقُلَتْ فِي السَّمواتِ وَالْاَرْضِ پھر فرماتا ہے يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا تجھ سے تو یہ اس طرح پوچھ رہے ہیں گویا کہ تو حَفِی عَنْهَا ہے۔عجیب ہے کہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کہ ایک ہی لفظ میں کئی معانی سمادیتا ہے اور موقع اور محل کے مطابق وہ معانی اُس پر اطلاق پاتے ہیں۔حفی کا ایک معنی ہے خوب واقفیت رکھنے والا خوب علم رکھنے والا اور حَفِيٌّ عَنْهَا عَن کے صلہ کے ساتھ جب حفِی آتا ہے تو اس کا ایک یہ معنی ہوتا ہے کہ تو بات معلوم کرنے میں بہت ہی حریص ہے اور پیچھے پڑا ہوا ہے کہ میں یہ بات معلوم کر کے چھوڑوں گا۔گویا کہ تجھے بھی کو لگی ہوئی ہے کہ یہ واقعہ کب ہوگا ؟ تو یہ دو معانی ہیں اور دونوں یہاں اطلاق پاتے ہیں فیصلہ اس طرح ہوگا کہ يَسْتَلُونَک سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ عذاب کا معاملہ ایسا ہے جس میں صرف منکرین ہی نہیں پوچھا کرتے کہ کب ہوگا وہ تو تمسخر میں پوچھتے ہیں مومن بھی بعض بے قراری میں پوچھا کرتے ہیں کہ وعدے تو ہیں وہ پورے کب ہوں گے؟ تو دونوں الگ الگ جواب ہونا چاہئے اور حفی میں یہ دونوں جواب موجود ہیں۔وہ جو منکر ہے وہ تو یہ نہیں سوچ سکتا کہ آنحضرت ﷺ کو پختہ علم ہے کہ کب ہوگا اور اس کے باوجود ہم سے چھپا رہے ہیں۔وہ تو مانتے ہی نہیں وہ تو تمسخر کر رہے ہیں يَسْتَعْجِلُونَكَ کا تو مضمون تبھی ظاہر ہوتا ہے جب وہ یقین رکھتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نعوذ باللہ مفتری ہیں، اپنی طرف سے باتیں بنارہے ہیں ، نہ کوئی عذاب آنا