خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد۴ 634 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء ہوں اور ان دونوں ممالک میں میں تبلیغ کروں گا انشاء اللہ اور اس معاملہ میں آپ میری رہنمائی کریں اور کسی احمدی سے اس کا رابطہ قائم نہیں ہوالٹر پچر کسی ذریعے سے پہنچ گیا جس طرح ہم بعض دفعہ ڈاک کے ذریعہ تقسیم کرتے رہتے ہیں اور خدا کے فضل سے وہ دل بدلا اور ان دو ممالک میں احمد بیت کے قیام کا خدا تعالیٰ نے ایک ذریعہ مہیا کر دیا۔اسی طرح بعض جزائر سے مختلف ایسی اطلاعات آرہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جب آپ تھوڑی سی کوشش کرتے ہیں تو آسمان اس سے زیادہ کوشش شروع کر دیتا ہے اور آپ کی کوشش کو خدا رائیگاں نہیں جانے دے گا اس لئے اس کی طرف مزید توجہ کریں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سے احمدی ایسے ہیں، تقریباً ہر روز کی ڈاک میں ایسے خطوط ملتے ہیں جنہوں نے پہلے کبھی تبلیغ نہیں کی تھی ، اب کی ہے تو وہ حیران رہ گئے ہیں کہ ہم کیوں غافل بیٹھے ہوئے تھے اور بعض جن کو پھل ملے ہیں ان کی تو کایا ہی پلٹ گئی۔ایسا ان کو چسکا پڑ گیا ہے کہ گویا انکو بعد میں جو جنت ملنی تھی وہ اس دنیا میں مل گئی اور جن کو نہیں پھل لگ رہے وہ بے چین اور بے قرار ہیں کہ ہمیں بھی خداوہ وقت نصیب فرمائے کہ ہماری تبلیغ سے احمدی ہوں۔جہاں یہ سب کچھ ہورہا ہے وہاں بعض واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ ایک پر امن جگہ ہے جہاں کوئی مخالفت نہیں امریکہ میں مثلاً بعض علاقوں میں اور وہاں مبلغ نے کثرت کے ساتھ لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا اور پتے ڈھونڈے اور ان کو پتہ جات پر لٹریچر بذریعہ ڈاک بھجوایا اور اس سے پہلے اسکومتنبہ کر دیا گیا کہ دیکھو ایسی حرکت نہ کرو یہ امن بر باد ہو جائے گا، شدید مخالفت ہوگی اور پھر جب مخالفت ہوئی جیسا کہ ہوئی تھی تو پھر مبلغ کو مطعون کیا گیا کہ دیکھا ہم کہتے نہیں تھے کہ مخالفت ہوگی۔کہتے تو تھے لیکن اسی طرح کہتے تھے جس طرح فرشتے نبوت کے بعد خدا کو کہتے کہ کیوں خدا ہم کہتے نہیں تھے کہ فساد ہو گا ؟ تم کیا کہتے ہو یہ کیا کہتے تھے کہ تمہاری پیشگوئی کیا حقیقت رکھتی ہے جو چند دن کی پیشگوئی ہے۔قرآن کریم تو وہ پیشگوئی بیان فرما رہا ہے جو تخلیق کا ئنات سے پہلے کی ایک پیشگوئی ہے اس وقت بھی تو فرشتوں نے یہی کہا تھا کہ اے خدا اگر رسول بھیجے گا یعنی پیغمبر تبلیغ کرنے والا تو فساد برپا ہوگا پس کیا ان کا حق نہیں تھا کہ وہ خدا کو کہتے کہ کیوں ہم نہیں کہتے تھے یہ ہم نہ کہتے تھے کی جو کھیل ہے یہ مذہب کے معاملات میں نہیں چل سکتی۔یہ تو وہاں چلتی ہے جہاں نادانی کی باتیں ہوں ، جہاں غفلت کی حالت میں غلط اندازے لگا کر کوئی فعل کیا جائے اور ایک متنبہ کر نیوالا پہلے متنبہ کر چکا ہو لیکن اگر خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کوئی قدم اٹھایا ہو،علم ہو کہ کیا نتیجہ نکے گا تو پھر دوسرے کا یہ حق نہیں رہا کرتا کہ ہم نہیں کہتے تھے۔