خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 635

خطبات طاہر جلدم 635 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۵ء پس تبلیغ کا معاملہ اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے جہاں سب کچھ پہلے سے علم ہے اور علم ہونا چاہئے کہ یہ ہو گا پھر آپ اس میدان میں قدم رکھتے ہیں پھر دوسرا یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کہے کیوں جی ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ ہو گا۔اب کہتے ہیں تم کیا کہتے تھے ہم بھی یہی کہتے تھے، ہمارے باپ دادا بھی یہی کہتے آئے ہیں، آدم بھی یہی کہتے تھے اور آدم کی پیدائش سے پہلے فرشتے بھی یہی کہا کرتے تھے تم ہمیں کیا نئی بات بتاتے ہو۔یہ دراصل لا علمی کی بات ہے۔حقیقت میں فساد کی ذمہ داری کا انتقال دو طرح سے قرآن کریم میں ملتا ہے۔ایک تو تکبر اور فرعونیت کے نتیجہ میں ماریں گے ہم ، ذمہ دار تم ہو، یہ ہے وہ اعلان اور یہ اعلان کرنے والے تو خدا کی نظر میں شدید مجرم ٹھہرتے ہیں لیکن کچھ معصوم لوگ بھی ہیں، چنانچہ فرشتہ صورت ان کو دکھایا گیا ہے۔پس یہ جو احمدی ہیں بچارے یہ فرشتوں کی ذیل میں آتے ہیں کہ معصومیت اور لاعلمی کی بناء پر یہ بات کر رہے ہیں میں ان کو قصور وار نہیں سمجھتا لیکن کہتے غلط ہیں بہر حال اور اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ کیوں جی ہم نے متنبہ کر دیا تھا تو ان کی کی تو پھر مثال ویسی ہی ہے جیسے پنجابی کی کہاوت میں کہتے ہیں کہ ایک طوطا با وجود اس تنبیہ کے کہ اس نگری میں نہ جانا وہاں پکڑے جاؤ گے وہ کسی نگری میں چلا گیا اور پکڑا گیا اور تنبیہ چونکہ طوطی کی طرف سے آئی تھی اس لئے طوطی پھر اڑ کر وہاں پہنچی اور جب وہ پنجرہ میں قید تھا تو پنجابی کی کہاوت ہے کہ وہ دیوار کے کنارے بیٹھ کر یہ گیت گانے لگی کہ طوطیا منموتیا میں آکھ رہی میں ویکھ رہی کہ ایس نگری نہ جا۔ایس نگری دے لوگ برے تے لیندے پھائیاں پا“۔اے طوطے میں تجھے کہہ ہٹی تجھے بار بار تنبیہ کی کہ ایس نگری نہ جا، اس بستی میں نہ جانا ، اس نگری کے لوگ برے ہیں ، یہ پھائیاں ڈال لیا کرتے ہیں ، یہ پھندے ڈال لیا کرتے ہیں اور پھنسا لیا کرتے ہیں اور اسی طرح ایک شاعر کہتا ہے کہ ع زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں کے طوطے کا پھنسا تو بیوقوفی کے نتیجہ میں تھا لیکن خدا کے انبیاء جب ان پھندوں میں پھنستے ہیں تو بیوقوفی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس علم کے باوجود کہ ہم جہاں جائیں گے وہاں ضرور ہم سے یہ سلوک کیا جائے گا ، دیکھتے ہوئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے وہ قدم آگے بڑھاتے ہیں ،اس لئے ان کو کوئی بیوقوف نہیں کہ سکتا۔تو اگر کوئی احمدی یہ کہتا ہے اور مربی کو چھیڑتا ہے کہ دیکھا ہم نہیں