خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 633
خطبات طاہر جلدم 633 خطبہ جمعہ ۱۹ار جولائی ۱۹۸۵ء کئے بیٹھا ہے کہ فساد وہ کرے گا اور ذمہ داری تم پر ڈالے گا جس طرح بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے وہ تمہارا حال ہو گا فرق صرف یہ ہوگا کہ زبان تمہاری اور دانت دشمن کے، جو ہرلمحہ اس انتظار میں رہیں گے کہ ذرا غلطی ہو زبان سے حرکت الٹ ہو جائے ، بے احتیاطی اختیار کرے زبان تو جہاں تک ممکن ہے وہ دانت اس کو کاٹ کے پھینک دیں۔یہ صورت حال ہے جس میں ہمیں تبلیغ کرنی ہے اور اس کے باوجود یہ یقین بھی رکھنا ہے کہ تبلیغ کے نتیجہ میں دکھ دیئے جائیں گے۔یہ ہے توازن جس کو اپنے ذہنوں میں آپ قائم کریں گے تو صحیح مبلغ بنیں گے ورنہ غلطیاں کریں گے ٹھوکریں کھائیں گے۔اب جو تبلیغ کا چرچا عام ہے احمدیوں کی طرف سے اللہ کے فضل سے بڑی تیزی سے پھل بھی لگ رہے ہیں، نئی نئی قومیں داخل ہو رہی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسی جگہ بھی تبلیغ کے انتظام فرمارہا ہے جہاں ہماری پہنچ بھی نہیں تھی ، جہاں ہماری تبلیغ کی کوشش کا ایک ذرہ بھی دخل نہیں تھا اور یہ خدا تعالیٰ اس لئے نشان ظاہر فرما رہا ہے کہ وہ ہمیں مطلع کرے کہ میں محبت اور رحمت کی نظر سے تمہاری کوششوں کو دیکھ رہا ہوں اور یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ تبلیغ تو بطور فریضہ کے تم کر رہے ہو کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمہاری قربانی کا حصہ اس میں شامل ہو لیکن میں نتیجہ نکالنے میں تمہاری تبلیغ کا محتاج نہیں ہوں، تمہاری تبلیغ کا منتظر ضرور ہوں کیونکہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب تک تو میں اپنا حصہ نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل کا حصہ نہیں ڈالا کرتا۔ایسے ایسے جزائر سے، ایسے ایسے نئے ملکوں سے اطلاعیں آرہی ہیں بیعتوں کی کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ساؤتھ افریقہ کے دو ممالک سے کل ہی مثلاً ایک بیعت پہنچی ہے جو ایسا باشندہ ہے جو دو ممالک کے درمیان ایسا معلق ہے کہ اس طرف بھی قدم رکھ سکتا ہے اور اس طرف بھی قدم رکھ سکتا ہے، دونوں طرف رشتہ داریاں یا قبیلے ہیں اور وہ بڑی سوچ اور سمجھ کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پہلے عیسائیت سے مسلمان ہوا اور پھر اس نے احمدی ہونے کا فیصلہ کیا اور مسلمان بھی احمد یہ لٹریچر کے ذریعہ ہوا۔چنانچہ اس کا ایک بہت ہی عمدہ خط کل مجھے ملا اس نے لکھا ہے کہ میں جو احمدی ہو رہا ہوں اتنے سال کی مسلسل جد و جہد اور تلاش کے بعد میں ہوا ہوں اور یہ لٹریچر میرے زیر مطالعہ ہے اور یہ یہ دلائل میں زیر نظر لایا ہوں ، ان پر غور کیا ہے اور بڑی سوچ اور سمجھ کے بعد ، بڑے تحمل کے ساتھ یہ فیصلہ کر رہا ہوں لیکن ساتھ یہ بھی فیصلہ کر رہا ہوں کہ اب میں احمدیت کے لئے وقف ہو گیا