خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 618 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 618

خطبات طاہر جلد۴ 618 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء ہو سکتے ہیں یا خدا کی راہ میں ظاہری اموال کا اور یا اپنے علم اور اپنی فراست کا انفاق۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان پر ایک جوش ہے اور خدا کے فضل ان قربانیوں کی صورت میں تمہارے دلوں پر نازل ہورہے ہیں۔اس فہم وفراست کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے تم پر الہام ہورہے ہیں کہ دین کی خدمت کے لئے خدا تمہیں نئی نئی راہیں سمجھا رہا ہے۔فرماتے ہیں ان باتوں کو بھی اپنی طرف سے خیال مت کرو۔آسمان سے عجیب سلسلہ انوار جاری اور نازل ہو رہا ہے۔پس میں بار بار کہتا ہوں کہ خدمت میں جان توڑ کوشش کرو۔مگر دل میں مت لاؤ کہ ہم نے کچھ کیا ہے۔اگر تم ایسا کرو گے ہلاک ہو جاؤ گے۔“ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مالی قربانی کا ایک بہت ہی بنیادی اصول یہ پیش فرماتے ہیں کہ اس میں استمرار اور استقلال ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ کبھی کچھ دے دیا اور پھر غافل ہو گئے اور پھر کسی وقت کچھ اور دے دیا پھر سمجھا کہ چلو کافی دیر کے لئے ہم نے خدمت کا حق ادا کر دیا۔یہ جو ماہانہ با قاعدہ پابندی کے ساتھ چندہ دینا ہے اس کی تاکید بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اور بعض احمدی جب اس تحریر کو پڑھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ گویا منشائے مبارک یہ ہے کہ دل میں جو چاہو دے دو، ایک پیسہ ہے تو ایک پیسہ دے دو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر دو پابندی کے ساتھ۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہرگز یہ نہیں فرمایا ہے جو فرمایا ہے اس کو اگر آپ غور سے سنیں یا پڑھیں تو یہ بالکل ایک اور رنگ ہے اور یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ جماعت کو اس لحاظ سے اصلاح کی ضرورت ہے بلکہ جماعت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمناؤں کے عین مطابق ہے۔آج جو جماعت کی حالت اس معاملہ میں میں دیکھ رہا ہوں اسے دیکھ کر جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی یہ تحریر پڑھی کہ مجھے حسرت ہے کہ میں جماعت کو خام حالت میں نہ چھوڑ جاؤں تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور میں نے اپنی طرف اور آپ سب کی طرف سے یہ گواہی دی کہ اے خدا اس پاک مسیح کو اطلاع دے دے ہماری طرف سے کہ خدا کی قسم آپ ہمیں خام حالت میں نہیں چھوڑ کر گئے۔خدا کی قسم آپ ہمیں ناقص حالت میں نہیں چھوڑ کر گئے۔مجھے یقین ہے کہ خدا بھی عرش پر حضرت مسیح