خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 617
خطبات طاہر جلدم 617 خطبہ جمعہ ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۸۵ء لگا کر دیکھیں اس میں کیسی گہرائی ہے اور حکمت کے کیسے کیسے موتی چھپے ہوئے ہیں۔یہ عام کلام نہیں ہے کہ سطحی طور پر آپ گزر جائیں جیسے سٹرک پر سے گزر جاتے ہیں۔اس میں تو قدم قدم پر نیا حسن آپ کو دکھائی دے گا اور معرفت کے جواہر چھپے ہوئے نظر آئیں گے۔یہ وہ فقرہ ہے جس کی طرف میں نے آپ کو توجہ دلائی تھی کہ ” بہتوں کو حسرت ہوگی کہ کاش ہم نے کی نظر کے سامنے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا مسیح موعود کی نظر کے سامنے ہم نے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا یہ حسرت لئے لوگ آئندہ مرتے رہیں گے لیکن بے بس ہوں گے کچھ نہیں ہوگا۔امام کی نظر میں آکر کام کرنا اس کام کے درجے کو بڑھا دیتا ہے ، یہ ریا کاری نہیں ہے اور ایسے بندے کے لئے دل سے بے ساختہ جو دعا نکلتی ہے وہ اس کام کی کایا پلٹ دیتی ہے۔یہ فقرہ عارف باللہ کے سوا کسی کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے کسی کو علم و ادب سے ادنی بھی مس ہو اور دل پر وہ ہاتھ رکھ کر گواہی دے تو ہر گز یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ یہ کسی جھوٹے کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ بات ہے جو تجارب میں سے گزر کر حاصل ہوتی ہے ورنہ حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔بڑے سے بڑے مبالغہ آمیز تحریر لکھنے والا بھی اپنی تحریر میں ایسا فقرہ پیش نہیں کر سکتا اور چھپا ہوا فقرہ ہے نمایاں کر کے بظاہر پیش نہیں ہوا۔برسبیل تذکرہ ذکر آ گیا ہے کہ " کاش ہم نے نظر کے سامنے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا سو اس وقت ان حسرات کا جلد تدارک کرو جس طرح پہلے نبی یا رسول اپنی امت میں نہیں رہے میں بھی نہیں رہوں گا۔سواس وقت کا قدر کرو اور اگر تم اس قدر خدمت بجالاؤ کہ اپنی غیر منقولہ جائیدادوں کو اس راہ میں بیچ دو، پھر بھی ادب سے دور ہوگا کہ تم خیال کرو کہ ہم نے کوئی خدمت کی ہے۔“ انکساری کے کیسے عظیم سبق بھی ساتھ دے دیئے ہیں۔تمہیں معلوم نہیں اس وقت رحمت الہی اس دین کی تائید میں جوش میں ہے اور اس کے فرشتے دلوں پر نازل ہور ہے ہیں اور ہر ایک عقل اور فہم کی بات جو تمہارے دل میں ہے وہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔“ اب بتائیں ایسی صورت میں تکبر کا کوئی نام ونشان بھی باقی رہتا ہے؟ انفاق دو ہی قسم کے